Wednesday, 23 February, 2005, 03:21 GMT 08:21 PST
امریکی صدر جارج بش نے کہا یہ خیال بالکل مضحکہ خیز ہے کہ امریکہ ایران پر حملے کی تیاری کررہا ہے۔
صدر بش نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا انہوں نے یورپ کے دورے میں نیٹو کے ملکوں سے یہ وعدہ لیا کہ وہ عراق میں فوجی ٹریننگ میں مدد کریں گے۔
فرانس اور جرمنی اب بھی اپنے فوجی عراق بھیجنے کے خلاف ہیں لیکن امریکی حکام کہتے ہیں کہ تربیت پر آمادگی ایک خوش آئند علامت ہے اور یہی بات اہم ہے۔
یورپی یونین اور امریکہ نے یہ بھی طے کیا کہ عراق کی تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا مشترکہ انتظام کریں گے۔
تاہم صدر بش نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ یورپی یونین چین پر عائد اسلحہ کی پابندیاں اٹھانے کو تیار ہے۔
برسلز میں یورپی یونین کے لیڈروں سے ملاقات کے بعد صدر بش نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران سے برطانیہ، جرمنی اور فرانس مذاکرات کررہے ہیں جن کا ایک ہی اجتماعی مقصد ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔
صدر بش نے کہا ہم سب کے مفاد میں ہے کہ ایران حزب اللہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی امداد نہ کرے۔
ساتھ میں صدر بش نے یہ بھی کہا کہ ایران کے بارے میں طریق کار کا ہر راستہ ہمارے سامنے کھلا ہوا ہے۔