Sunday, 20 February, 2005, 10:34 GMT 15:34 PST
اسرائیلی کابینہ نے غزہ کے علاقے سے افواج اور یہودی بستیوں کے ہٹانے سے متعلق وزیرِاعظم ایریل شیرون کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی پارلیمان پہلے ہی اس منصوبے کو منظور کر چکی ہے۔
کابینہ کی تصدیق کے بعد آٹھ ہزار یہودی آباد کاروں کو بستیاں خالی کرنے کے لیے پانچ ماہ کا وقت دیا جائےگا۔ غزہ کا علاقہ خالی کرنے کا عمل جولائی میں شروع ہو گا۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس عمل کے دوران فلسطینیوں سے تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمیں اپنی اگلی نسل کو امن کے قیام کا یہ موقع دینا ہوگا۔اگرچہ یہ ایک چھوٹا سا موقع ہے مگر یہ دیا جانا ضروری ہے‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے جو کہ ہمیں بہتر مستقبل کی جانب لے جا سکتا ہے۔
اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے کی نئی حد بندی کی بھی منظوری دی ہے۔ فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اس فیصلے سے وہ مغربی کنارے کا کچھ حصہ کھو دیں گے۔
یہ نئی حد اگرچہ گزشتہ حد بندی کی نسبت اسرائیلی سرحد کے زیادہ نزدیک ہے تاہم پھر بھی اس میں فلسطینی علاقے کا چھ سے آٹھ فیصد حصہ شامل ہو گا۔
مصر اور غزہ کی سرحد کے ایک حصے کو بھی دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سرحد کے اس حصہ کو سولہ سے پینتیس سال کے فلسطینی باشندوں کے لیے چند ماہ قبل کشیدگی میں اضافے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کی ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ دوبارہ سرحد کھولنے کا فیصلہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا حصہ ہے۔
بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر غزہ کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سےعلاقے کے نوجوان اب آزادانہ گھوم پھر سکیں گے۔