Saturday, 19 February, 2005, 01:37 GMT 06:37 PST
روسی صدر ولادیمرپوٹن نے کہا ہے کہ ایران کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا ہے اور روس ایران سے جوہری تونائی سمیت تمام معاملات میں تعاون جاری رکھے گا۔
روسی صدر نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے۔
روسی صدر کا یہ بیان ایران کے جوہری مذاکرات کار حسن روانی سے بات چیت کے دوران کہی۔
روس ایران کو نیوکلیئر ریکٹر بنانے میں مدد کر رہا ہے جس پر امریکہ کو سخت اعتراض ہے۔
امریکی حکومت الزامات لگاتی رہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری توانائی پر امن مقاصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایک معائدے کے تحت روس ایران کو جوہری توانائی کے پلانٹ کے لیے نیوکلیئر فیول میہا کرئے گا اور ایران استعمال شدہ فیول روس کو واپس کر دے گا۔
استعمال شدہ فیول کو واپس کرنے کے معاملے پر ایران اور روس میں اختلافات کی وجہ سے بشر میں تعیر کیے گئے جوہری توانائی کا پلانٹ کام شروع نہیں کر سکا ہے۔
ایران کے جوہری مذاکرات کار حسین روحانی نے روسی صدر سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ روسی کردار کی وجہ سے ایران کے جوہری توانائی کے معاملے پر برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے ساتھ جاری مذاکرات میں مدد مل سکے گی۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ا یران کو پیشکش کر رکھی ہے کہ وہ اس کو بھاری پانی کے نیوکلئیر ریکٹر کی جگہ ہلکے پانی کا نیوکلئیر ریکٹر فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں ۔
ان یورپی ممالک کا خیال ہے کہ ایران بھاری پانی کے نیوکلئیر ریکٹر سے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔