Thursday, 03 February, 2005, 11:45 GMT 16:45 PST
افغان حکام کے مطابق انہیں افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں سولہ افراد کے لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں کسی جرائم پیشہ گروہ نے ہلاک کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تفتیش کنندگان کو شک ہے کہ اس قتلِ عام میں یا تو کار چوروں کا کوئی گروہ ملوث ہے یا پھر یہ قحبہ خانہ چلانے والے کسی گروہ کا کام ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اس واقعے کے تناظر میں تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔پولیس کو سولہ افراد کی لاشیں ایک گھر کے صحن میں دبی ہوئی ملی تھیں۔
ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ قاتل گروہ ڈرائیوروں کو بہلا پھسلا کر لاتا تھا اور انہیں قتل کر کے ان کی گاڑیوں کو بیچ دیتا تھا۔
فیضان الحق کا کہنا تھا کہ ’ ان افراد میں سے ایک فرد حال ہی میں دفنایا گیا تھا اور اس کی جیب میں رقم بھی موجود تھی‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں شک ہے کہ ننگرہار میں 60 کے قریب افراد اس طرح قتل کر کے دفنائے گئے ہیں۔
ایک سینئیر افغان حکومتی اہلکار عبد الوکیل اٹک نے اے ایف پی کو بتایا کہ
’تربیت یافتہ ڈاکو ملک میں لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور ان کی گاڑیاں بھی چرا رہے ہیں‘۔
کچھ اور اطلاعات کے مطابق قاتل گروہ ایک قحبہ خانہ چلاتا تھا اور مقتولین اس کے گاہک تھے جنہیں لُوٹنے کے بعد قتل کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلال آباد کے اس مکان تک ایک اطلاع پر پہنچے تھے جبکہ اس سے پہلے انہوں نے کابل میں ایک گھر سے نو لاشیں برآمد کی تھیں۔
کابل میں اس سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جلال آباد اور کابل سےگرفتار کیے گئے افراد ایک ہی گینگ سے تعلق رکھتے ہیں۔