Sunday, 23 January, 2005, 11:09 GMT 16:09 PST
شدت پسند رہنما ابو مصعب الزرقاوی نے عراق میں تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات کو درہم برہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک اسلامی ویب سائٹ پر چھپنے والے اپنے بیان میں الزرقاوی نے سنی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے خلاف جنگ کریں۔
’ہم نے جمہوریت اور اس قیام کے لیے کام کرنے والے تمام عناصر کے خلاف شدید جنگ کا اعلان کیا ہے۔‘
ابو مصعب الزرقاوی اس سے پہلے عراق میں ہونے والے کئی بم دھماکوں اور سر قلم کرنے کی واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔
امریکہ نے الزرقاوی کے سر کی قیمت پچیس ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔
دوسری طرف عراق میں عبوری حکومت نے ملک میں تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات کو پرامن رکھنے کے لیے ملک کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عراق کے وزیر داخلہ فلاح الناقب انتخابات کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بغداد آئرپورٹ کو دو روز کے لیے بند کر دیا جائے گا اور ملک کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ ہوگا۔
ٹریفک اور راہ گیروں کی آمد و رفت بہت کم کر دی جائے گی ۔ حکومت نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ عراق کی تمام سرحدیں الیکشن کے دنوں بند کر دی جائیں گی۔
حکومت نے یہ سکیورٹی اقدامات اس خدشے کے تحت کیے ہیں کہ مزاحمت کار تیس جنوری کو پولنگ کے دوران تخریب کاری کی کوشش کریں گے۔
ادھر عراق میں اقوام متحدہ کے انتخابی امور کے مشیر کارلوز والینزویلا نے کہا ہے کہ اگر یہ حفاظتی اقدامات کامیاب رہے تو امکان ہے کہ انتخابات خیریت سے ہو جائیں گے اور لوگ ان کے نتائج قبول کر لیں گے۔
عراق کے عبوری وزیراعظم ایاد علاوی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تیس جنوری کو منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے تاہم سکیورٹی سروسز مزاحمت کاروں کے چیلنج کا سامنا کریں گے۔
یہ بات انہوں نے دارالحکومت بغداد میں جمعہ کے روز ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے دو خودکش حملوں کے بعد اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہی تھی۔ ان حملوں میں بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔