Wednesday, 19 January, 2005, 02:41 GMT 07:41 PST
برطانیہ میں تین فوجیوں پر عراقی قیدیوں کے ساتھ مذموم سلوک کے سلسلے میں کورٹ مارشل کے دوران بائیس ایسی تصویریں جاری کی گئی ہیں جن میں فوجی عملہ قیدیوں کے ساتھ نازیبا سلوک کرتا دکھایا گیا ہے۔
یہ تصویریں مئی سن دو ہزار تین میں بصرے کی لوٹ مار کے بعد اتاری گئی تھیں۔
وکیل استغاثہ نے ان کو انتہائی گھناؤنا بتایا ہے۔ ایک تصویرمیں ایک فوجی ایک قیدی کی پاس کھڑا ہے اور اسے مار رہا ہے۔ ایک اور تصویر میں ایک عراقی جال میں لٹکا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح کی ایک تصویر میں بدن سے ننگے کچھ عراقی ہیں جن کو جنسی فعل پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
![]() فوج کے سربراہ سر مائیکل جیکسن |
برطانیہ کی رائل ریجمنٹ فسلیئرز کے فوجیوں پر بصرہ میں قیدیوں کے ساتھ نازیبا سلوک کرنے اور انہیں جنسی فعل کی نقل پر مجبور کرنے کے سلسلے میں نو الزامات کا سامنا ہے۔
برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر مائیکل جیکسن نے کہا کہ فوج ہر طرح کے مذموم سلوک کی مذمت کرتی ہے اور کورٹ مارشل کے فیصلے کی منتظر ہے۔
سر مائیک نے کہا کہ وہ مقدمے کے متعلق کوئی بیان نہیں دیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ عراق میں 65,000 برطانوی فوجی تعینات ہیں اور اس میں سے ایک بہت ’چھوٹی‘ تعداد پر بدسلوکی کا الزام ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا فوج کے تحقیقاتی اور عدالتی سسٹم پر پورا اعتماد ہے۔