Wednesday, 19 January, 2005, 17:12 GMT 22:12 PST
امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی نے دو دن کی سماعت کے بعد کونڈولیزا رائس کی بطور وزیر خارجہ کے تقرری کی توثیق کر دی ہے۔
کونڈولیزا رائس سینیٹ کے پورے ایوان سےمنظوری حاصل کرنے سے پہلے ہی امریکی وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔ سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے دو دن تک کونڈلیزا رائس کو ممبران کی طرف سے بش انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ان کی نامزدگی کے حق میں سولہ ارکان نے ووٹ دیے جب کے ڈیموکریٹک پارٹی کےدو ارکان جان کیری اور باربرا باکسر نے ان کے خلاف ووٹ ڈالے۔
ڈیمورکریٹک پارٹی کے دیگر ارکان نے کہا کہ وہ بڑی ہچکچاہٹ کے ساتھ کونڈولیزا رائس کے حق میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔
توقع ہے کہ امریکی سینیٹ جس میں رپبلکن پارٹی کے ارکان کو اکثریت حاصل ہے جمعرات کو کونڈولیزارائس کی نامزدگی کو منظوری دے دے گی۔
سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ارکان نے اور خاص طور پر ڈیمورکریٹک ارکان نے عراق کے حوالے سے کونڈولیزا رائس سے بہت سخت سوالات کیے۔ سماعت کے دوران کونڈولیزا رائس نے اعتراف کیا کہ بش انتظامیہ کے عراق کے بارے میں کچھ فیصلے غلط تھے۔
باربرا باکسر نے کونڈولیزا رائس پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جنگ کے حق میں رائے عامہ کو استوار کرنے کے لیے عوام کو پورے حقائق سے آگاہ نہیں کیا۔
رپبلکن پارٹی کے رکن لنکن چافی نے کونڈولیزا رائس پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے بارے میں غور کریں۔ انہوں نے اس ضمن میں چین کی مثال دی اور کہا کہ صدر نکسن کے زمانے میں جب چین سے تعلقات استورا کیے گئے تو اس زمانے میں چینی حکومت کی پالسیاں بھی اتنی ہی جابرانہ تھیں جتنی آجکل ایران کی ہیں۔
کونڈولیزا رائس نے کہا کہ ایک ایسے ملک کے ساتھ جو اسرائیل کا وجود ہی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں مفاہمت کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایران دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے اور مشرقِ وسطی میں امن کے لیے امریکی کوششوں کی مخالفت کرتا ہے۔
عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بارے میں کونڈولیزا رائس نے کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ فوجوں کی واپسی کی کوئی تاریخ نہیں دے سکتیں کیونکہ جب تک وہاں مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کر لیے جاتے فوجوں کو واپس نہیں بلایا جا سکتا۔