Tuesday, 18 January, 2005, 09:02 GMT 14:02 PST
وزیر خارجہ کے عہدے کے لیےصدر بش کی نامزد کردہ امیدوار کونڈولیزا رائس اپنی نامزدگی کی منظوری لینے کی خاطر منگل سے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہی ہیں۔
توقع ہے کہ اس دو روزہ پیشی کے دوران عراق کا مسئلہ سرفہرست رہے گا اور کنوڈولیزا رائس کو عراق کے حوالے سے سینیٹ کے ارکان کے ذہنوں میں اٹھنے والے خدشات کے جوابات دینے ہوں گے۔
کونڈولیزا رائس کو وزارت خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کی صورت میں اپنی ترجیحات کو بھی سینیٹ کے ارکان کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔
کونڈولیزا رائس جن کی عمر پچاس سال ہے کولن پاؤل کی جگہ وزارت خارجہ کے عہدے کے لیے نامزدگی کی گئیں ہیں۔
سینیٹ میں کونڈولیزا رائس کی پیشی ایک ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب صدر بش دوبارہ منتخب ہونے کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے ہیں۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں کوئی شخص یقینی طور پر نہیں کہا سکتا کہ کونڈولیزا رائس خارجہ پالیسی کے کس نظریہ کی حامل ہیں۔
کونڈولیزا رائس ، صدر بش کی قومی سلامتی کی مشیر کی حیثیت سے مختلف شعبوں کی سفارشات کو مربوط بنانے کا کام کرتی رہی ہیں۔
سینیٹ کے ارکان کونڈولیزا رائس سے خارجہ امور پر ان کی رائے اور خیلات جاننا چاہیں گے۔
نامہ نگاروں کے مطابق سینیٹ کے ارکان عراق کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی امریکی انتظامیہ اور کونڈولیزا رائس کے خیالات جاننے کی کوشش کریں گے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صدر مشرف کے دوسرے دورے میں ایران پر فوجی کشی بہت حد تک ممکن ہے۔
کنوڈولیزا رائس صدر بش کے بہت قریب ہیں اور بش خاندان کی قریبی دوست کی حیثیت سے مشہور ہیں۔