عراق میں موصل شہر سے اغوا ہونے والےمسیحیوں کے ایک اعلٰی ترین مذہبی رہنما آرچ بشپ بیسل جارجس کسموسا کو رہا کر دیا گیا ہے۔
موصل میں چرچ کے حکام نے کہا ہے کہ بشپ بیسل کی رہائی کے لیے کوئی ہرجانہ ادا نہیں کیا گیا۔ اس پہلے اطلاعات ملی تھیں کے اغوا کنندگان نے بشپ کو رہا کرنے کے لیے دو لاکھ ڈالر ادا کرنے کو کہا تھا۔
ویٹیکن میں حکام نے بشپ کے اغوا کی شدید مذمت کی تھی اور اسے دہشت گردی قرار دیا تھا۔
حالیہ دنوں میں عراق میں عیسائی اقلیت پر کئی حملے کیے گئے ہیں۔ دسمبر میں موصل میں دو گرجوں کو بم سے اڑا دیا گیا تھا۔
![]() موصل کا کیتھولک چرچ |
عراق میں عیسائی کل آبادی کا تین فیصد ہیں۔
عراق میں مختلف مذاہب کے درمیان مفاہمت کے مرکز کے منتظم کینن اینڈریو کا کہنا ہے کہ ’یوں تو موصل میں کلیسا کے رہنماؤں کو کسی نہ کسی طرح خطرات درپیش رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں، خاص طور پر فلوجہ میں کارروائی کے بعد حالات نہایت خراب ہوگئے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ فلوجہ سے بہت سے دہشت گرد موصل آچکے ہیں جس سے وہاں صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے‘۔