Tuesday, 18 January, 2005, 02:13 GMT 07:13 PST
عراق میں مسیحیوں کے ایک اعلٰی ترین مزہبی رہنما آرچ بشپ بیسل جارجس کسموسا کو موصل شہر میں اغوا کر لیا گیا ہے۔
ویٹیکن میں حکام نے بشپ کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کہا ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں عراق میں عیسائی اقلیت پر کئی حملے کیے گئے ہیں۔ دسمبر میں موصل میں دو گرجوں کو بم سے اڑا دیا گیا تھا۔
![]() موصل کا کیتھولک چرچ |
عراق میں عیسائی کل آبادی کا تین فیصد ہیں۔
عراق میں مختلف مذاہب کے درمیان مفاہمت کے مرکز کے منتظم کینن اینڈریو کا کہنا ہے کہ ’یوں تو موصل میں کلیسا کے رہنماؤں کو کسی نا کسی طرح خطرات درپیش رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں، خاص طور پر فلوجہ میں کارروائی کے بعد حالات نہایت خراب ہوگئے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ فلوجہ سے بہت سے دہشت گرد موصل آچکے ہیں جس سے وہاں صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے‘۔