Thursday, 06 January, 2005, 12:02 GMT 17:02 PST
سونامی سے متاثرہ لاکھوں افراد کی امداد کے لیے انڈونیشیا میں ہونے والی کانفرنس میں عالمی رہنماؤں نے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں بحرہند کے ساحلوں پر واقع ملکوں کو مستقبل میں سونامی سے بچنے کے لیے قبل از وقت خبردار کرنے کے نظام کو قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
اس مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ اس طوفان سے ہونے والی غیر معمولی تباہی غیر معمولی عالمی ردِ عمل کی متقاضی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ مختلف ملکوں کی طرف سے امدادی رقوم کے اعلانات کو فوری طور پر عملی اقدامات میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امداد دینے والے ملکوں سے کہا ہے کہ سونامی سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی فوری امداد کی ضرورت ہے۔
امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول نے امریکہ کی طرف سے بنائے گئے گروپ کو بھی تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ اس گروپ میں امریکہ ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت شامل تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اقوام متحدہ کے حکام نے اس گروپ کے تحلیل کیے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان حکام کا خیال تھا کہ اس گروپ کے بنائے جانے سے امدادی کارروائیوں کو مربوط بنانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
کانفرنس کے آغاز پر کانفرنس کے شرکاء سمندری طوفان سنامی کی تباہ کاریوں کی زد میں آنے اور ہلاک ہونے والوں کے سوگ میں ایک منٹ کے لیے خاموش کھڑے رہے۔
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں ہونے والی اس کانفرنس میں بیس ملک شرکت کررہے ہیں، جن میں امریکہ، چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور برطانیہ کے علاوہ اقوام متحدہ اور آسیان یعنی جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم کے رہنما بھی شامل ہیں۔
کانفرنس میں اس بارے میں غور کیا گا کہ امدادی رقومات کیسے تقسیم کی جائیں اور بحالی کا پروگرام کیوں کر شروع کیا جائے۔
تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ سورکیات ساتھیرتھائی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس طرح کے نظام کا مرکز بننا چاہے گا۔
امریکہ نے خطے میں اُسی طرح کا نظام لگانے میں مدد دینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جیسا کہ بحرالکاہل میں اس طرح کے طوفانوں کی اطلاعات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کا بھی کہنا ہے کہ وہ وہ بحر ہند میں اس نوع کا ایک نظام لگانے کی تجاویز کو تیزی سے آخری شکل دینے میں لگے ہیں تا کہ ان پر اس ماہ جاپان میں ہونے والی کانفرنس میں غور کیا جا سکے۔ یہ کانفرنس عالمی سطح کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے طریقوں پر غور کرنے کے لیے ہو رہی ہے۔
![]() کہا جاتا ہے کہ ایسی تباہ کاریوں کی کوئی مثال نہیں ملتی |
جرمنی ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے امدادی رقومات میں بہت بڑے بڑے اضافوں کے اعلانات کیے ہیں اور چالیس ملکوں کے وعدوں کے بعد مجموعی امدادی رقم تین ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے لیکن امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہنگامی حالات میں جو وعدے کیے جاتے ہیں ان کا بہت ہی معمولی حصہ واقعی ادا کیا جاتا ہے۔