Friday, 31 December, 2004, 21:21 GMT 02:21 PST
امریکہ کے صدر جارج بش نے سونامی سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی رقم میں دس گنا اضافے کے اعلان کیا ہے۔
امریکہ کی طرف سے اب امدادی مدد کو بڑھا کر 350 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس بات کا اعلان سینیئر امریکی اور اقوامِ متحدہ کے اراکین کے درمیان غیر ملکی امداد پر بات چیت کے بعد کیا گیا۔
دنیا کے تمام بڑے ممالک نے سونامی سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی امداد کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے امدادی کوششوں اور دور دراز علاقوں میں امداد کی فراہمی کے سلسلے میں ملاقات کے بعد کہا کہ مدد میں دس گنا رقم کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ترجیح انڈونیشیا کے صوبے آچے کو دی گئی ہے۔
جمعرات کو کوفی عنان نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ ایک ایسی تباہی ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس سلسلے میں بے مثال عالمی امداد کی ضرورت ہے‘۔
عالمی بینک نے اپنی جانب سے 250 ملین جبکہ برطانیہ نے 96 ملین ڈالر کی
امداد کا اعلان کیا ہے۔
امداد دینے والے ممالک عالمی بینک 250 ملین ڈالر برطانیہ 96 ملین ڈالر یورپی یونین 44 ملین ڈالر امریکہ 350 ملین ڈالر کینیڈا 33 ملین ڈالر جاپان 30 ملین ڈالر آسٹریلیا 27 ملین ڈالر فرانس 20.4 ملین ڈالر ڈنمارک 15.6 ملین ڈالر سعودی عرب 10 ملین ڈالر اقوامِ متحدہ، رائٹرز |
امریکی وزیرِ خارجہ جمعہ کو کوفی عنان سے ملاقات کے بعد اتوار کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔
انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھ جنوری کو بین الاقوامی امدادی کانفرنس منعقد کر رہا ہے۔
اتوار کو آنے والی اس ہولناک آفت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اب بڑھ کر ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوگئی ہے جبکہ ہزاروں افراد ابھی تک لا پتہ ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ متاثرہ افراد خوراک، پانی اور جائے پناہ کے منتظر ہیں۔
انڈونیشیا میں زلزلے اور سونامی لہروں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے آچے میں لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے گورنر کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے۔بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اس اجتماع میں موجود قریبا ً ہر شخص نے اپنے کسی نہ کسی رشتہ دار یا جاننے والے کو اس تباہی میں کھویا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں نئے سال کی آمد سے متعلقہ تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ملائشیا میں حکام نے نئے سال کے آغاز کے موقع پر ہونے والی آتشبازی کے پروگرام کو منسوخ کر دیا ہے اور لوگوں سے مرنے والوں کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔ملائشیا میں اس آفت کے نتیجے میں 66 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سری لنکا میں بھی نئے سال کی تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سری لنکا سونامی لہروں سے متاثر ہونے والے دوسرا بڑا ملک ہے۔ سری لنکا میں تمام مذاہب سے متعلقہ افراد مرنے والوں کی آخری رسومات میں مصروف ہیں۔
بین الاقوامی ریڈ کراس نے امداد کی فراہمی سے متعلق ایک خصوصی ویب سائٹ کا اجراء کیا ہے۔
سونامی آفت سے متاثرہ ممالک کے قرضوں کی معافی سے متعلقہ جرمنی کی تجویز کی حمایت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور فرانس نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔
اٹلی نے قرضوں کی معافی پر بات چیت کے لیے جی ایٹ تنظیم کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ امداد کی فراہمی کا انتظام اقوامِ متحدہ کا کام ہے نہ کہ جی ایٹ تنظیم کا۔