Tuesday, 28 December, 2004, 11:57 GMT 16:57 PST
پاکستان اور بھارت کے درمیان اسلام آباد میں منگل کو دو روزہ مذاکرات کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کشمیر کے مسئلے کے حل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور آئندہ مذاکرات کے نظام الاوقات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر پر ٹھوس اور جامع بات چیت ہوئی ہے اور بھارتی سیکٹری خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات پہلے سے کم ہوئے ہیں۔
اسلام آباد سے صحافی احتشام الحق نے بتایا کہ منگل کے روز پاکستان کے خارجہ سیکٹری ریاض کھوکھر اور ان کے بھارتی ہم منصب شیام سرن کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس میں کشمیر کا مسئلہ سرِ فہرست رہا اور فریقین نے زیادہ تر بات چیت اسی موضوع پر کی۔
پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ صدر جنرل مشرف اور بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے درمیان نیویارک کی ملاقات کی روشنی میں تعلقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں بھارت کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ دہشت گردی روکنے کے حوالے سے مزید کوشش کی ضرورت ہے۔ تاہم بھارت نے کشمیر پر مذاکرات کو اہم قرار دیا ہے۔
صحافی احتشام الحق کے مطابق بھارت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش نہیں کی جا رہی اور اگر اس حوالے سے کوئی احساس یا تصور ہے تو وہ درست نہیں۔
بھارتی سیکٹری خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطے سے کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
پاک بھارت خارجہ سیکٹریوں نے دنوں ملکوں کے درمیان اسی سطح پر بات چیت کے شیڈول کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے جو اگلے سال جنوری سے جولائی تک ہوں گے۔
اس کے علاوہ مسائل کے حل کے لیے جو ورکنگ گروپ بنائے گئے ہیں ان کی سفارشات کی روشنی میں کام کیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مختلف معاملات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات کم ہوئے ہیں اور اس توقع کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان میزائل ٹیسٹ کرنے سے پہلے دوسرے کو پیشگی آگاہ کرنے کا معاہدہ بھی جلد طے پا جائے گا۔