Tuesday, 14 December, 2004, 01:52 GMT 06:52 PST
نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسے افغانستان میں امریکی فوج کی زیر حراست تین اور قیدیوں کو ہلاک کیے جانے کے ثبوت ملے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کے نام ایک کھلے خط میں تنظیم نے کہا امریکہ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرانے اور ان خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائیں دینے میں ناکام رہا ہے۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے تمام واقعات کی تحقیقات کرائی جارہی ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے امریکی فوج پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں فوجی قید خانوں کے بارے میں اپنی رپورٹ شائع کرے۔
![]() |
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی حراست میں مرنے والوں کی تعداد اب چھ ہو گئی ہے۔
افغانستان میں امریکی فوجی کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پامیلہ کیٹن نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ تین ہلاکتوں کی تحقیق ہو رہی ہے جب کے تین واقعات سماعت کے مرحلے میں ہیں۔
نئے دریافت ہونے والے واقعات میں سے ایک کا تعلق ایک ایسے افغان فوجی سے ہے جس کو امریکی فوج نے تربیت دی تھی۔ اسے صوبے گردیز سے غلطی سے گرفتار کیا اور بعد میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ایک اور واقع میں چار امریکی فوجیوں نے سن دو ہزار دو میں ایک افغان قیدی کو تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان ہلاکتوں کے بارے میں معلومات ایک اور امریکی تنظیم نے سرکاری طور پر حاصل کیں تھیں۔
تنظیم کے مطابق ایسے بے شمار واقعات میں سے بہت کم کی تحقیقات کرائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف دو امریکی فوجیوں پر اس طرح کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں پر تشدد میں ملوث فوجیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
انہوں نے رمز فیلڈ کے نام خط میں کہا کہ کابل کے شمال میں بڈگرام میں امریکی فوج کے بڑے قید خانے کے متعلق شکایت میں کمی ہوئی ہے لیکن دوسرے کیمپوں سے جن کو فارورڈ اپریٹنگ سنٹرز کہا جاتا ہے شکایت میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کیمپوں میں لوگوں کو حراست میں رکھنے اور تشدد کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کیمپوں میں زیر حراست لوگوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کے رویے پر بہت زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں لوگوں کو گرفتار کرنے اور حراست میں رکھنے کا نظام قانون کے دائرے سے مکمل طور پر باہر ہے۔