Friday, 03 December, 2004, 20:35 GMT 01:35 PST
جاپان کی حکومت نے کہا ہے کہ اگلے پانچ سالوں کے دوران بیس اور تیس سالوں کی خواتین کو مزید بچے پیدا کرنے پر راضی کرنے کے لیے حکومت کی پالیسی میں جلد از جلد تبدیلیاں لانا ضروری ہے۔
جاپان میں اس وقت دنیا کی سب سے کم شرحِ پیدائش ہے۔
ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کہتے ہیں کہ جاپان میں شرح پیدائش اتنی گِر گئی ہے کہ اس صورتِ حال کے لیے جاپانی زبان میں ایک نیا لفظ شوشیکا رواج پا گیا ہے جس کا مطلب بچوں سے خالی معاشرہ۔
اگر عورتوں نے بچے پیدا کرنے کے بارے میں اپنا رویہ نہ بدلا تو اس صدی کے وسط تک جاپان کی آبادی مزید بیس فیصد کم ہو جائے گی اور جو لوگ موجود ہوں گے ان میں سے آدھے سے زیادہ بوڑھے اور ضعیف ہوں گے جن کی دیکھ بھال اور حفظانِ صحت کا انتظام مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔
![]() جاپان کی شہزادی مساکو اپنی بیٹی ایکو کے ساتھ |
واضح رہے کہ بیس سے پینتیس سال کی عمر کی جاپانی عورتیں اس وقت ریکارڈ تعداد میں غیر شادی شدہ ہیں۔ اگرچہ حکومت نے نرسریوں کا نظام اور زچگان کے لیے سہولتوں کا انتظام بہتر کر کے زیادہ بچے پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے لیکن خواتین کی انجمنوں کا کہنا ہے کہ معاشرے کا عمومی رویہ بچے پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔