http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 25 November, 2004, 08:15 GMT 13:15 PST

یوکرائن انتخابی تنازعہ عدالت میں

یوکرائن کی اپوزیشن نے صدراتی انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے

یوکرائن میں اپوزیشن رہمنا وکٹر یوشنکو نےاپنے حمایتوں سے ملک میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی کال دے دی ہے ۔

مبصرین کے مطابق سابق سوویٹ یونین میں روس کے بعد سب سے بڑی ریاست یوکرائن اس وقت خانہ جنگی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

یوکرائن کے سبکدوش ہونے والے صدر لیونڈ کچما نے دنیا سے کہا ہے کہ وہ یوکرائن کے معاملات میں مداخلت سے باز رہیں اور خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیاگیا تو ان کے ملک میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔

یوکرائن کے الیکشن کمشن نے وزیر اعظم وکٹر یانکوچ کو ملک کا نیا منتخب صدر ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ وکٹر یانکوچ کو روس نواز گردانا جاتا ہے۔جن کا کہنا ہے کہ وہ انتخاب جیت کر روس کے ساتھ یوکرائن کے تعلقات مزید بڑھایں گے ۔
اپوزیشن رہنما وکٹر یوشنکو کو مغرب نواز سمجھا جاتا ہے اور پورپین پورنین اور امریکہ سمیت نے اس کی حمایت کی ہے۔ امریکہ نے یوکرائن کے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سابقہ سوویٹ یونین میں روس کے بعد سب سے بڑی ریاست یوکرائن میں صدارتی انتخابات میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے اور ملک میں سخت سردی کے باوجود اناسی فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

اپوزیشن رہنما وکٹر یوشنکو نےالزام لگایا ہے کہ حکومت نے دھاندلی کے ذریعے ان کی فتح کو شکست میں بدلنے کوشش کر رہی ہے ۔

وکٹر یوشنکو کی اپیل پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر بیٹھے ہو ئے ہیں اور مطالبہ کر رہے کہ الکیشن کمشن وکٹر یوشنکو کو منتخب صدر اعلان کرئے۔

یورپی ممالک یوکرائن کے انتخاب میں بہت دلچسی لے رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق یوکرائن کے انتخابی نتائج یورپ کے مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑیں گے۔
یوکرائن یورپین یونین کا ممبر ہے۔