Thursday, 18 November, 2004, 08:15 GMT 13:15 PST
امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ایران اپنے میزائلوں کو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت سے لیس کر رہا ہے۔
کولن پاول نے کہا کہ انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق ایران ’ ڈیلیوری سسٹمز پر کام کر رہا ہے‘۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب کہ ایران نے یورپی یونین سے مذا کرات کے نتیجے میں یورینیم کی افزودگی روک دی ہے۔
ایران اس بات پر اصرار کرتا آیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام خفیہ ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق ہے۔
کولن پاول نے جو کہ ِچلی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں کہا کہ ’ میں وارہیڈ کی بات کر رہا ہوں‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ ہم ان اطلاعات کی بات کر رہے ہیں جن سے نہ صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں بلکہ یہ کہ وہ ان دونوں( میزائل اور وار ہیڈ) کو یکجا کر نے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘۔
ایران کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے 25 نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
IAEA نے ستمبر میں ایک قرارداد کے ذریعے ایران کو کہا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے۔
یورینیم کی کامیاب افزودگی جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں ایک بنیادی کلیہ ہے۔
پیر کو IAEA نے ایک خفیہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایران نے ابھی تک ایٹمی مواد کو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال نہیں کیا لیکن
IAEA کو یہ بھی شبہ ہے کہ ایران نے اپنا تمام ایٹمی مواد ظاہر نہیں کیا ہے۔
یہ رپورٹ ایران اور یورپی یونین کے اس معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے مطابق 22 نومبر تک ایران یورینیم کی افزودگی روک دے گا اور اس کے بدلے میں یورپی یونین ایران سے توانائی اور تجارت کے شعبوں میں مزید تعاون کرے گی۔