Saturday, 13 November, 2004, 03:20 GMT 08:20 PST
امریکہ کے صدر بش نے وائٹ ہاؤس میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ باور کرتے ہیں کہ اسرائیل کے ہمسائے میں فلسطینی ریاست کا قیام اگلے چار سال میں ممکن ہے اور جمہوری اداروں کی تشکیل کی طرف فلسطینی صدر کا انتخاب پہلا قدم ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں امن دنیا کے مفاد میں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ امن کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے صدر بش کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی اور غربِ اردن کے کچھ حصے پر واقع بستیوں کو خالی کر دینے کے منصوبے کی حمایت کی جائے تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
ٹونی بلیئر امریکہ کے دوروزہ دورے پر ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
امریکی انتخابات صدر بش کے دوبارہ چار سال کے لیے صدر منتخب ہونے کے بعد مسٹر ٹونی بلیئر وہ پہلے رہنما ہیں جو امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں اور صدر بش سے ملاقات کر رہے ہیں۔
اس سے قبل نامہ نگار صدر بش کے ساتھ ان کے عشائیے کو اس بات کا غیر رسمی آغاز قرار دے رہے تھے جس کے دوران وہ امریکہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے خود کو زیادہ سرگرم کریں۔
برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ وہ مرحلہ ہے جو امریکہ اور برطانیہ سے ایسے اشاروں کا تقاضہ کرتا ہے جن سے یہ ظاہر ہو کہ وہ امن کے قیام کے لیے انتہائی سنجیدہ ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مسٹر بلیئر صدر بش پر زور دیں گے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کی مدد اور حمایت کریں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے برطانوی وزیر اعظم پر ان کے ملک میں دباؤ ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کے آخر انہیں عراق پر امریکہ کی حمایت کر کے کیا ملا۔