http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 12 November, 2004, 04:48 GMT 09:48 PST

دو ریاستی حل عنان کی توقعات

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کے لیے یاسر عرفات کی بہترین وراثت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کی دو ریاستوں کے پہلو بہ پہلو وجود کے لیے ان کے خواب کو ایک حقیقت میں تبدیل کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کے مثبت اثار ہیں کہ فلسطینیوں نے اپنی قیادت کے مسائل کو بخوبی نمٹا لیا ہے اور اب معاملات نمٹانے کے لیے ایک ٹھوس قیادت سامنے آئے گی۔

انہوں نے یہ بیان ان فیصلوں کے بعد جاری کیا ہے جن کے تحت فلسطینی وزیراعظم محمود عباس تحریک آزادی فلسطین کے چیئرمین، اور پارلیمانی سپیکر رواحی فتوح نے عبوری صدر کے چہدے کا حلف اٹھایا ہے۔

عبوری صدر رواحی فتوح نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ باقاعدہ صدر کے لیے انتخابات ساٹھ دن میں ہوں گے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر سنجیدے اور ذمہ دار قیادت سامنے آئی تو یاسر عرفات کی موت مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی موڑ ثابت ہو گی۔

الفتح کے سربراہ مقرر کیے جانے والے فاروق قدومی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے امن بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اگر یہ کوشش کامیاب نہیں ہوتی تو مسلح جدو جہد بھی جاری رکھیں گے۔