Saturday, 06 November, 2004, 13:41 GMT 18:41 PST
عراق میں سرگرم القاعدہ کے رہنما ابومصائب الزرقاوی نے مارگریٹ حسن کی رہائی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو اغوا کرنے والے اسلام کی تعلیمات سے نا بلد ہیں۔
ایک اسلامی ویب سائٹ پر ابومصائب الزرقاوی کا ایک مبینہ بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر مارگریٹ حسن ان کے ہاتھ لگ گئیں تو وہ اس کو رہا کر دیں گے۔
مارگریٹ حسن کے اغوا کار دھمکی دے رہے تھے کہ اگر برطانوی فوجیوں کو عراق سے نہ نکالا گیا تو وہ مارگریٹ حسن کو الزرقوی گروپ کے حوالے کر دیں گے۔
ابومصائب الزرقوی کے مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مارگریٹ حسن کے اغوکارروں کے پاس اگر کوئی ایسی شہادت ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ غیر ملکی ایجنٹ ہیں تو وہ اس کو شائع کریں وگرنہ ان کو رہا کر دیں۔
مارگریٹ حسن تیس سال سے عراق میں قیام پزیر ہیں اور امدادی کاموں میں مصروف رہی ہیں۔ان کےشوہر عراقی شہری ہیں۔ان کے پاس برطانوی اور عراقی شہریت ہے۔
ابو مصائب الزرقاوی کےمبینہ بیان میں کہا گیا ہے جو لوگ عورتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے اغوا کرتے ہیں وہ اسلام کو نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ کوئی مسلمان عورتوں اور بچوں کو نہیں مارتا۔
ابومصائب الرزقاوی کے بیان میں کہا گیا کہ جو مسلمانوں کے ساتھ لڑیں گے وہ ان کو مارنے کا حق رکھتے ہیں۔
ابو مصائب الزرقاوی کے مبینہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے کئی آپریشنز اس لیے ختم کردیے کیونکہ ان کو خدشہ تھا کہ اس میں مسلمانوں کا خون بہے گا۔