Saturday, 30 October, 2004, 04:58 GMT 09:58 PST
بیجنگ اور تہران سے آمدہ اطلاعات کے مطابق چین کی دوسری بڑی کمپنی سائنوپیک نے ایران سے آئندہ پچیس سال میں سو بلین ڈالر مالیت کی ایل این جی گیس خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔
ایرانی نائب وزیر برائے تیل نے ایک ایرانی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ سودا دو گنا بھی ہو سکتا ہے یعنی دو سو بلین ڈالر کا۔
فریقین میں یہ بھی طے ہوا ہے کہ سائنوپیک ایران میں یادوران کے علاقے میں تیل نکالنے کا کام کرے گی جہاں اندازہ ہے کہ تین بلین بیرل بھاری اور ہلکا خام تیل نکل سکتا ہے جس میں سے نصف چین کو ملے گا۔
ایک ایرانی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ پیداوار کے لحاظ سے یہ دنیا میں تیل کا سب سے عمدہ علاقہ ہے تاہم کم سے کم چار سال کے بعد یہاں تیل نکل سکے گا۔
اسلامی طلبا کی خبر رساں ایجنسی نے ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن کا یہ بیان بطور تبصرہ شائع کیا ہے کہ چین کو سیاسی طور پر بھی ایران سے تعاون کرنا چاہیے۔
ایران کو یہ امید ہے کہ اگر اس کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سامنے رکھا گیا تو چین پابندیوں کی قرار داد کو ویٹو کردے گا۔
چین اپنی ضرورت کا چودہ فیصد تیل ایران سے درآمد کرتا ہے اور اس تازہ سودے کے بعد اسے اور بھی زیادہ پس و پیش ہوگا کہ ایرانی تیل اور گیس کی برآمد پر کسی طرح کی پابندی لگائی جائے۔