Sunday, 17 October, 2004, 04:00 GMT 09:00 PST
ایران نے کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دے گا جس میں اسے یورینیم کی افزائش کو مکمل ختم کرنے کا کہا جائے گا۔
ایران کی قومی سلامتی کے اہلکار حسین موساوین نے کہا جوہری ایندھن کو استعمال کرنے کا اپنا جائز حق کبھی نہیں چھوڑے گا۔
اس سے ایک روز قبل امریکہ نے کہا تھا کہ تین یورپی ممالک نے ایران کو ایک ایسا منصوبہ پیش کریں گے جس میں تہران کے ایٹمی عزائم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سفارتی حل ہوگا۔ یہ منصوبہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اگلے ہفتے پیش کیا جائیگا ۔
کہا جارہا ہے کہ اس منصوبے میں ایران کے لیے تجارتی مراعات اور غیر فوجی استعمال کے لیے ایٹمی ایندھن کی فراہمی شامل ہیں۔
نامہ نگاروں کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیاں لگا دی جائیں لیکن وہ یورپی ممالک کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے اگلے ماہ تک کی دی گئی ڈیڈلائن سے پہلے اس مسئلے کے حل کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کا آخری موقعہ دینا چاہتا ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ٹام کیسی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ یورپی اتحاد کے تینوں (ممالک) نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے اپنا منصوبہ ایران کو پیش کریں گے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے ہیں۔