Saturday, 16 October, 2004, 18:21 GMT 23:21 PST
انڈونیشیا میں سرکاری وکیلوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بالی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں اسلامی شدت پسند ابوبکر بشیر پر فرد جرم عائد کردی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابو بکر بشیر شدت پسند تنظیم جماعہ اسلامیہ کے رہنما ہیں جو بالی بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی ذمہ دار ہے۔
جمعہ کے روز ابوبکر بشیر پر جکارتہ کے میریٹ ہوٹل میں ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا گیا۔
گزشتہ برس میریٹ ہوٹل کے حملے کے وقت ابو بکر بیشر جیل میں تھے اور انہوں نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
ان کے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے اندر شروع ہونے والی ہے۔
دو سال قبل بالی کے ایک نائٹ کلب میں ہونے والے طاقتور بم دھماکے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
سرکاری وکیلوں کا کہنا ہے کہ بالی بم دھماکوں کے ایک ملزم امروزی نے حملے کے لئے ابو بکر بشیر سے اجازت لی تھی۔
بالی بم دھماکے کے بعد انڈونیشیا کی حکومت نے انسداد دہشت گردی کا ایک نیا قانون بنایا تھا لیکن اس کا اطلاق بالی دھماکے کی سماعت پر نہیں ہوگا۔