Saturday, 16 October, 2004, 20:30 GMT 01:30 PST
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ فرانس اور روس نے شاید تیل کے عوض عراق پر پابندیوں میں نرمی کی کوشش کی ہو۔
حال ہی میں عراق سروے گروپ کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ صدام حسین کے اہلکاروں نے کئی ممالک کے لوگوں کو رشوت دینے کی کوشش کی تاکہ عراق پر سے اقوام متحدہ کی پابندیاں ہٹا لی جائیں۔
کوفی عنان نے برطانوی ٹیلی ویژن آئی ٹی وی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان الزامات کے بارے میں ’سوچا بھی نہیں جاسکتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ فرانس اور روس کی ’یہ حکومتیں اہم اور سنجیدہ ہیں۔‘
عراق سروے گروپ کے چیف انسپکٹر چارلس ڈویلفر نے کہا تھا کہ انہیں اس بات کے دستاویزی شواہد ملے تھے کہ عراقی اہلکاروں نے فرانسیسی اور روسی افراد کو رشوت دینے کی خصوصی طور پر کوشش کی کیونکہ ان کے ملک سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں۔
کوفی عنان نے کہا: ’میں نہیں سمجھتا ہوں کہ روسی یا فرانسیسی یا چینی حکومت خود کو بیچ دے گی صرف اس لئے کہ عراقی حکام نے ان کی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے۔‘ انہوں نے کہا: ’مجھے اس پر بالکل یقین نہیں ہے۔‘
آئی ٹی وی سے کوفی عنان کا یہ انٹرویو اتوار کے روز نشر کیا جائے گا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا کہ عراق پر جنگ سے دنیا محفوظ ہوگئی ہے۔