Thursday, 14 October, 2004, 01:24 GMT 06:24 PST
عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے فلوجہ کے شہریوں سے کہا ہے کہ یا تو وہ ابو مصعب الزرقاوی کو حکومت کے حوالے کر دیں یا حملے کے لیے تیار ہو جائیں۔
الزرقاوی جن کا تعلق اردن سے ہے اور جنہیں القائدہ کا حلیف سمجھا جاتا ہے، اس وقت عراق میں سب سے زیادہ مطلوب شخص ہیں۔
ایاد علاوی نے عراقی پارلیمان کے سامنے کہا کہ الزرقاوی اور ان کے ساتھیوں کو عبوری حکومت کی تحویل میں لینا ضروری ہے۔
ایاد علاوی کے اس انتباہ کو ان مزاحمت کاروں کے خلاف ایک انتہائی واضح دھمکی تصور کیا جا رہا ہے جنہیں فلوجہ پر کنٹرول حاصل ہے۔
فلوجہ تین لاکھ نفوس کی آبادی کا شہر ہے اور کہا جاتا ہے کہ اکثریت سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور عراق پر امریکی قبضے کے بعد سے یہ شہر خاص طور پر مزاحمت کا مضبوط مرکز تصور کیا جاتا ہے۔
امریکی اس شہر پر کئی بار فضائی حملے کر چکے ہیں اور چند روز پہلے کیے جانے والے فضائی حملے کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی فوجی ذرائع نے کہا تھا کہ فوج نے ٹھیک ٹھیک اہداف پر اور اردنی نژاد شدت پسند ابو مصعب الزرقاوی اور ان کے ساتھیوں کے ٹھکانوں پر یہ حملے کیے تھے۔
فلوجہ میں مفاہمت کا راستہ نکالنے کے لیے حکومت کے نمائندوں اور مقامی رہنماؤں میں بات چیت بھی جاری ہے تاہم اب اس میں تعطل ہے۔
عراق کی عبوری حکومت اور امریکیوں کی کوشش ہے کہ جنوری میں ہونے والے انتخابات سے پہلے فلوجہ پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔
ہسپتال کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فلوجہ اور رمادی کے نزدیک امریکی فوجیوں اور مزاحمت کارروں کے درمیان بدھ کے روز جھڑپوں میں نو عراقی ہلاک ہو گئے ہیں جن میں سے پانچ فلوجہ میں ہلاک ہوئے ہیں۔
عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ اگر باغیوں کے قبضے والے شہر فلوجہ کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا تو جلد ہی وہاں فیصلہ کن فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس شہر کو حاصل کرنے کی کوئی بھی کارروائی ایک بڑا چیلنج ہوگی۔ اپریل میں عراقی افواج کو سکیورٹی کی ذمہ داری سونپنے کے بعد سے امریکی افواج فلوجہ میں داخل نہیں ہوئیں۔