http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 13 October, 2004, 15:57 GMT 20:57 PST

دوستم نے بائیکاٹ ختم کردیا

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ایک بڑے حریف جنرل عبدالرشید دوستم نے خود کو گزشتہ ہفتے کے انتخابات کے بائیکاٹ سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب انہوں نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی اس تحقیق میں مدد کریں گے جو ووٹنگ کے حوالے سے شکایات کا جائزہ لے رہا ہے۔

جنرل دوستم ان پندرہ امیدواروں میں شامل تھے جنہوں نے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے افغانستان کے پہلےانتخابات کی کامیابی کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔ حکام کہتے ہیں کہ جمعرات سے قبل ووٹنگ کی گنتی شروع نہیں ہو سکے گی۔

اقوامِ متحدہ کی طرف سے مقرر کردہ ایک پینل نے شکایات کے اندارج کے لیے مزید اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

تاہم پینل کے ایک رکن کریگ جینس نے عندیہ دیا ہے کہ پولنگ سٹیشنوں سے ان بیلٹ باکسز کو الگ کرنے کے بعد جن کے متعلق شکایات ہیں، گنتی شروع کی جا سکتی ہے۔

افغانستان کے انتخابات میں اہم مرحلہ اس وقت آیا تھا جب یونس قانونی نے جو حامد کرزئی کے بڑے حریف ہیں یہ کہہ کر اپنا راستہ الگ کر لیا تھا کہ انہیں پولنگ کے طریقۂ کار پر ہی تشویش ہے اور یہ کہ اس کا ازالہ اقوامِ متحدہ کا تحقیقاتی مشن کرے۔