Wednesday, 13 October, 2004, 04:38 GMT 09:38 PST
امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمسفلڈ نے صدام حسن اور القاعدہ کے رابطوں کے بارے میں ثبوت نہ ملنے کا انکشاف کیا ہے اور برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا عراق کے وسیع تباہی کے مبینہ ہتھیاروں کے جواز سے دستبردار ہوئے ہیں۔
برطانوی وزیرخارجہ نے برطانوی پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ انٹیلیجنس کے سربراہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اس دعویٰ کو ثابت نہیں کر سکتے کہ عراق کے پاس پینتالیس منٹ میں کیمیائی یا جراثیمی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی صلاحیت تھی۔
ستمبر دو ہزار دو میں عراق پر حملے کی عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جاری کیے جانے والے حقائق نامے میں اس دعوے کو انتہائی اہم دلیل کے طور پر پیش کیا گیا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ کے اندر جراثیمی اور کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جیک سٹرا نے برطانوی حزب اختلاف اور کچھ سرکاری ارکان کے اس مطالبے کو نہیں مانا کہ انہیں عراق کے خلاف جنگ شروع کرنے پت معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کے کچھ انٹیلیجنس اطلاعات غلط ثابت ہوئی ہیں، دنیا کو صدام حسین کی صورت میں موجود خطرے سے نجات دلانا ایک منصفانہ عمل تھا۔
![]() جیک سٹرا کا کہنا ہے کہ صدام کو ہٹانا بھی با جواز عمل تھا |
عراق پر حملہ کرنے سے پہلے بش انتظامیہ نے یہ تاثر دینے کی بھر پور کوشش کی تھی کہ صدام حسین اور القاعدہ میں روابط ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ کولن پاؤل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ عراق میں القاعدہ کے تربیتی کیمپ ہیں۔
![]() امریکی معائنہ کار جنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں تھے |
دوسال پہلےڈونلڈ رمسفیلڈ عراق پر حملے کا جواز ان الفاظ میں پیش کیا تھا: ’عراق میں اور خود بغداد کے اندر القاعدہ کے ارکان کی موجودگی کے بارے میں ہمارے پاس ٹھوس شہادتیں ہیں۔ اور باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ رابطے برسوں سے جاری ہیں اور امکان یہ ہے کہ کیمیاوی اور جراثیمی ایجنٹ کی ٹریننگ بھی دی جاتی رہی ہے‘۔
یہی نہیں بلکہ ڈونلڈ رمسفیلڈ نے حملے کے دوسرے جواز کے سلسلے میں بھی اپنا موقف بدل دیا ہے۔ پرسوں پیر کے جلسے میں انہوں نے عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں کہا تھا: ’اتفاق یہ ہے کہ وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں ملے۔ انٹیلی جنس غلط کیوں ثابت ہوئی میں اس بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ کیونکہ مجھے معلوم نہیں‘۔
لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے یہ ٹکڑا بھی لگا دیا کہ صدام حسین سے نجات حاصل کرکے دنیا کا بھلا ہوا ہے۔ تو کیا وزیر دفاع نے نئی راگنی الاپنی شروع کردی ہے۔ وہ تھنک ٹینک یعنی کونسل آف فارن ریلیشن، جس کے اجلاس میں پیر کو انہوں نے سوالوں کے جواب دیے تھے اس کے ایک سینیئر فیلو چارلس کُپچن کا کہنا ہے کہ رمسفیلڈ نے واقعی اپنا موقف بدل لیا ہے۔
تاہم منگل کی شام ڈونلڈ رمسفیلڈ کی طرف سے یہ بیان بھی آیا ہے کہ پیر کو جو بات انہوں نے کہا تھی اس کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔ انہوں اس بات کی وضاحت نہیں کی۔
گزشتہ ہفتے امریکہ میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں تھے۔