Friday, 08 October, 2004, 16:58 GMT 21:58 PST
عمر آفریدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کابل
’میں ایک انتخابی امیدوار کے ساتھ، جو اب دستبردار ہو چکے ہیں، غزنی گیا تاکہ ان کا جلسہ دیکھ سکوں‘۔
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ بیلٹ پیپر پر ان کا نام اوپر سے چھٹے نمبر پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں جانتے ہیں، ان کے لیے یہ اطلاع ضروری ہے۔
اگرچہ انہوں نے اپنے انتخابی نشان باز کا بھی ذکر کیا مگر بیلٹ پیپر پر کم سے کم تین ملتے جلتے پرندے موجود ہیں۔ یہ نشانات کچھ اس طرح سے ہیں۔
اسحاق گیلانی : بیٹھا ہوا باز (اب وہ خود بھی بیٹھ گئے ہیں)
عبدالستار سیرت: اڑتی ہوئی فاختہ چونچ میں وحدت، صلح و آزادی کے پیام لیے ہوئے۔ یہ فاختہ باز سے زیادہ ملتی ہے (شاید طویل جنگ نے افغان فاختہ کو بھی باز کی شباہت دے دی)
محمد ابراہیم رشید: اڑتا ہوا باز۔
عبدالحفیظ منصور: کھلی ہوئی کتاب جس پر استقلال، آزادی، عدالت، وحدت ملی درج ہے۔
وکیل منگل: بند کتاب جس پر اقراء لکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ’کتاب‘ لکھا ہوا ہے۔
عبدالھادی خلیلزئی: کھلی کتاب جس پر قانون لکھا ہے۔
سید عبدالہادی دبیر: کھلی کتاب جس کے سرے پر سورج طلوع ہو رہا ہے اور کتاب کے اوپر پر کا قلم رکھا ہوا ہے۔
اسی طرح بعض امیدواروں کے انتخابی نشان میں افغانستان کا نقشہ موجود ہے۔
جن امیدواروں کے نشانات واضح ہیں ان میں:
حامد کرزئی: میزان جس کی ڈنڈی پر پر پھیلائے باز نظر آ رہا ہے۔ اس باز کی شکل امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے باز سے ملتی جلتی ہے؟!!
میر ندائی: شمع
محمد محقق: قلم
مسعودہ جلال: آدھی افغان روٹی اور گندم کی بالی
رشید دوستم: چلتا ہوا سیاہ گھوڑا
یہ عجیب بات لگتی ہے کہ بہت سے امیدواروں نے ملتے جلتے انتخابی نشانات حاصل کیے۔
یہاں میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ اس یکسانیت کے پیچھے کیا فکر کارفرما ہے۔ مگر سب نے کہا کہ وہ خود یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔