http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 05 October, 2004, 11:23 GMT 16:23 PST

کرزئی کا پہلا انتخابی جلسہ

افغان صدر حامد کرزئی نے منگل کو افغانستان کے پہلے صدراتی انتخابات سے چار دن قبل غزنی میں امریکی جنگی ہیلی کاپٹروں اور ٹینک شکن طیاروں کے سائے میں اپنے پہلے انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔

غزنی میں صدر کرزئی کے جلسہ کے موقع پر انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

صدر کرزئی دارالحکومت کابل سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے عزنی پہنچے جہاں انہوں نے پانچ ہزار کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔

افغانستان کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والے دو اور امیدواروں، یونس قنونی اور جنرل عبدالرشید دوستم نے بھی انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔
یونس قنونی نے کابل میں اور عبدالرشید دوستم نے مزار شریف میں جلسے منعقد کیے۔

بی بی سی کے نمائندے اینڈریو نارتھ نے اطلاع دی ہے کہ جلسہ گاہ میں بہت جوش و خروش پایا جاتا تھا اور لوگوں نے حامد کرزئی کے رنگا رنگ بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔

حامد کرزئی نے اپنی تقریر میں لوگوں پر زور دیا کہ وہ کئی دہائیوں کی لڑائی کے بعد ملک کی تعمیر نو میں ان کی مدد کریں۔

انہوں نے کہا ’بھائیو اور بہنو کسی دباؤ کے بغیر مجھ ووٹ دو۔ ہم افغانستان کو ایک مستحکم، پرامن اور پروقار ملک بنانا چاہتے ہیں۔‘

جلسے کے بعد حامد کرزئی نے جلسہ گاہ میں موجود لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملایا۔

کرزئی کے مدمقابل یونس قنونی نے دو ہزار کے ایک مجمعے سے کابل اسٹیڈیم میں خطاب کے دوران کہا کہ یہ انتخابات ملک کو آمریت سے جمہوریت کی طرف لیے جائیں گے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں حامد کرزئی کو اپنے حامیوں کو حراساں کرنے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے حامیوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے تمام کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

مزار شریف میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار مونیکا وٹلاک نے اطلاع دی کہ ملک کے شمالی علاقوں میں جنرل دوستم بہت مقبول ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جنرل دوستم اگر ان علاقوں میں ہار گئے تو یہ ان کی ساکھ کے لیے بہت بڑا دھچکہ ہو گا لیکن ان علاقوں میں جیت سے انہیں ملکی معاملات میں مزید اہمیت حاصل ہو جائے گی۔

افغانستان میں انتخابی مہم ہفتے کو ووٹنگ سے دو دن قبل بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔

پاکستان اور ایران میں بھی افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا کام پہلے ہی مکمل کر لیا گیا ہے۔