Friday, 01 October, 2004, 20:18 GMT 01:18 PST
گوانتانامو بے میں امریکہ کے غیر قانونی حراستی کیمپ سے آنے والے برطانوی شہری کے پہلے غیر سنسرشدہ خط سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
چھتیس سالہ برطانوی شہری معظم بیگ کی وکیل کا کہنا ہے کہ کہ اسے گزشتہ دھائی سال سے امریکہ کے اس فوجی اڈے پر کسی مقدمے کے محبوس رکھا جا رہا ہے۔
وکیل کے مطابق خطسے ظاہر ہوتا ہے کہ معظم پر تشدد کیا گیا اور اسے ہلاک کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
امریکی گوانتانامو میں زیادتیوں کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ قیدیوں سے تفتیش کرتے ہیں جس کے دوران انہیں القاعدہ کے بارے میں ’اہم‘ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
معظم بیگ کی وکیل کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت اب فوری اقدامات کرنے اور یہ شہادت اقوام متحدہ میں لے جانے اور امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے پر مجبور ہو گئی ہے۔
حقوقِ انسانی کے وکیل کلائیو سٹیفرڈ سمتھ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کو اب مسٹر بیگ کی فوری رہائی اور واپسی کی کوششیں کرنی چاہیئں۔
![]() معظم بیگ کا خاندان مسلسل ان کی رہائی کو مہم چلا رہا ہے |
پیر کو مسٹر بیگ کے وکلا کی ٹیم امریکی عدالت سے مطالبہ کرے گی کہ امریکی حکومت کو مسٹر بیگ اور دوسروں پر کیے جانے والے تشدد کے بارے میں خفیہ رکھی جانے والی معلومات عام کرنے کی ہدایت کی جائے۔
کیمپ کا دورہ کرنے والے ایک وکیل صفائی کو حال ہی میں امریکی قانون کے تحت گوانتانامو کے بارے میں کسی بھی طرح کے الزامات اور ان کی تفصیلات پر بات کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
مسٹر سٹیفورڈ سمتھ کا کہنا ہے کہ گوانتانامو بے میں کیے جانے والے تشدد کی ایسی بے شمار تفصیلات ہیں جو ابھی جو ابھی سامنے آنی ہیں‘۔
معظم بیگ کے والد کا کہنا ہے کہ ’وہ تمام باتیں اور تشدد جن کا خدشہ تھا اسے سیاہ و سفید میں تحریر دیکھنا انتہائی ہولناک ہے‘۔
وکیل گارتھ پرسی نے جمعہ کو کہا ہے کہ ’برطانوی نظر بندوں کے بارے میں حکومت کی ڈپلومیسی کا طریقہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ’مکمل‘ طور پر ناکام ہو چکا ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ مسٹر بیگ کا خط مکمل طور پر مدد کے لیے بلند ہونے والی ایک ایسی چیخ ہے جس کا رخ برطانوی حکومت کی طرف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کہ یہ پہلا خط ہے جس کے مندرجات ہم تک پہنچے ہیں اور نہیں کہا جاستا کہ اس سے پہلے کتنے خطوں میں مسٹر بیگ نے اس بارے میں بتایا ہو گا لیکن سنسر کی وجہ سے وہ ہم تک نہیں پہنچ سکا۔