Thursday, 30 September, 2004, 12:01 GMT 17:01 PST
بغداد میں یکے بعد دیگرے ہونے والی تین مختلف بم دھماکوں میں مزاحمت کاروں نے امریکی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں بچوں سمیت 41 افراد ہلاک اور 130 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں اکثر بچے ہیں جو بموں کے ٹکڑے یا دھماکہ خیز مواد کی زد میں آنے کے باعث مارے گئے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب بغداد میں پانی کے ایک پلانٹ کا افتتاح ہو رہا تھا اور لوگ جن میں زیادہ تر بچے تھے اس تقریب کو دیکھنے کے لیے جمع تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ پہلے کار بم کا دھماکہ ہوا اور جیسے ہی امریکی فوجی زخمیوں کی مدد کے لیے وہاں پہنچے دو مزید دھماکے ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق دوسرا بم دھماکہ اس وقت ہوا جب امریکی فوجی پہلے دھماکے کی زد میں آنے والی فوجی گاڑیوں کی مدد کے لیے پہنچے۔
جمعرات کو ہونے والے دھماکے عراق میں تشدد کی لہر کا تازہ ترین حصہ ہیں۔
ان دھماکوں سے محض چند گھنٹے پہلے بغداد کے مغرب میں ایک خود کش حملے میں دو عراقی پولیس اہلکار اور ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک امریکی فوجی اس وقت مارا گیا جب امریکی فوجی اڈے پر راکٹ داغا گیا۔
تلفار میں ایک کار بم حملے میں کم از کم چار افراد مارے گئے جبکہ موصل میں دو افراد کی ہلاکت کی خبر ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ رات فلوجہ شہر پر امریکی بمباری سے بھی کم از کم چار افراد مارے گئے تھے۔
عراق میں ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فلوجہ پر امریکی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک بچے سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
امریکی فوج کے بقول حملے میں ابو مصعب الزرقاوی کے حامی شدت پسندوں کے زیر استعمال ایک گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ حملے کے باعث یہ گھر تباہ ہو گیا ہے۔