http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 30 September, 2004, 17:57 GMT 22:57 PST

زنااورقتل پر پولیس اہلکار کو پھانسی

بنگلہ دیش میں ایک چودہ سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے اور پھر اسے قتل کرنے پر تیسرے پولیس اہلکار کو بھی پھانسی دے دی گئی ہے۔

امرتا لال کو رنگ پور کے شہر میں اٹھائس اور انتیس ستمبر کی شب بارہ بج کر ایک منٹ پر پھانسی دی گئی۔

تین پولیس اہلکاروں پر یہ جرم ثابت ہوا تھااور اس سے پہلے ان کے دو ساتھیوں معین الحق اور عبدالستار کو دو ستمبر کو پھانسی دی گئی تھی۔ جب کہ امرتا لال کے خاندان والوں نے صدر احمد سے رحم کی اپیل کر رکھی تھی جو صدر سے مسترد کر دی۔

جیل کے حکام کے مطابق امرتا لال نے آخری لمحے دعائیں مانگتے ہوئے گزارے جبکہ سینکڑوں متجسس لوگ جیل کے باہر جمع رہے۔

تینوں پولیس اہلکاروں پر انییس سو ستانوے میں ایک چودہ سالہ لڑکی یاسمین کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کرنے کا الزام ثاپت ہوا تھا۔

یاسمین ڈھاکہ سے اپنے شہر دیناج پور واپس لوٹ رہی تھی لیکن آخری بس نہ پکڑ سکنے پر اس نے پولیس کی گاڑی میں لفٹ مانگی۔

تینوں پولیس والے اس کو گھر پہنچانے کی بجائے ایک سنسان مقام پر لے گئے جہاں اس کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد اس کو قتل کر کے لاش سڑک کے کنارے پھینک دی۔

پولیس نے مبینہ طور پر جرم چھپانے کی کوششش کی جس کے خلاف شہر میں پر تشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں پولیسں کی فائرنگ سے مزید چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔