Friday, 24 September, 2004, 15:15 GMT 20:15 PST
ہٹلر نے ہندوستانی انقلابی رہنما سبھاش چندر بوس کو ہندوستان کی آزادی کے لیے ایک ایسی فوج بنانے میں مدد دی تھی جو ہندوستانی جنگی قیدیوں پر مشتمل تھی۔
اب سے سترہ سال بعد جاری کی جانے والی خفیہ دستاویزات تک رسائی سے بی بی سی پر یہ بات منکشف ہوئی ہے کہ روس نواز ہندوستانی انقلابی رہنما سبھاش چندر بوس کے بارے میں یہ عام اطلاع درست ہے کہ وہ برطانوی نوآبادیات کے زمانے میں ہندوستان سے فرار ہو کر جرمنی پہنچے تھے اور وہاں انہوں نے نہ صرف اتحادی افواج کے خلاف نشریات اوت اطلاعات کا سلسلہ شروع کیا تھا بلکہ وہ تقاریر بھی لکھی تھیں جن سے ہندوستانی تحریک آزادی میں شدت پیدا ہو سکتی ہو۔
![]() ہند آزدی فوج کے دو سپاہی |
اس زمانے میں جب ہٹلر کی افواج کے حوصلے پست ہو چکے تھے اور اتحادی افواج فرانسیسی افواج کے ساتھ مل کر نازی افوج کو پسپا کر رہی تھیں کئی جرمن فوجی نازی افواج سے بھاگ کر اتحادیوں کی پناہ میں آ گئے تھے اور انہوں نے برطانوی افسروں کو بعض خفیہ معلومات بھی فراہم کی تھیں جنہیں اس وقت مہر بند کردیا گیا تھا اور اب دو ہزار اکیس میں جاری کیا جائے گا۔ تاہم بی بی سی کو ان دستاویزات تک رسائی حاصل ہوئی ہے
ان افسروں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ہٹلر نے ہندوستان کے لیے سبھاش چندر بوس کی آزاد ہندوستانی جلاوطن حکومت کو تسلیم بھی کر لیا تھا اور انہیں اس بات کی اجازت بھی دے دی کہ وہ ان ہندوستانیوں سے مل کی اپنی فوج بنانے کی کوشش بھی کر لیں جنہیں جنرل رومیل نے اتحادی افواج کے لیے لڑنے کی بنا پر جنگی قیدی بنایا تھا۔
چندر بوس کو ہندوستان میں انگریزوں نے گیارہ بار گرفتار کیا لیکن آخر وہ فرار ہو کر جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
جرمن افسروں کی فراہم کردہ اطلاعات سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے بوس ہندوستانی قیدیوں کی ایک فوج بنانے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے اور ان کا
![]() ہٹلر نے بوس کی آزاد ہندوستانی جلاوطن حکومت کو تسلیم کر لیا تھا تاہم بوس کو اتنی زندگی نہ ملی کہ وہ ہندوستان کو آزاد ہوتے ہوئے دیکھتے |
اس کے علاوہ سوویت یونین کے خلاف جرمن حملے کے عزائم بھی چندر بوس کی مایوسی کا باعث بنے اور وہ جرمنی سے فرار ہو کر جاپان چلے گئے اور انہیں اتنی زندگی نہ ملی کہ وہ ہندوستان کو آزاد ہوتا ہوا دیکھ سکتے۔