Thursday, 23 September, 2004, 12:04 GMT 17:04 PST
انڈونیشیا کے دور دراز علاقوں سے اگرچہ ابھی انتخابی نتائج آ رہے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈونیشیا میں نئے صدر کی آمد آمد ہے۔
انڈونیشیا کی صدر میگاوتی سوکارنوپتری کو ان کے مخالف سوسیلو بیم بانگ یودھویونا کی طرف سے ایک بڑی شکست کا سامنا ہے۔
میگاوتی نے پارلیمان سے اپنے سالانہ خطاب میں اپنی حکومت کی غلطیوں کی معافی مانگی ہے۔ وہ پارلیمان کے سامنے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کر رہی تھیں۔
انہوں نے یہ تسلیم کرنے سے گریز کیا کہ انہیں شکست ہو چکی ہے لیکن انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں۔
ایسا لگتا ہے کہ تین سال قبل اقتدار میں آنے والی میگاوتی کو ووٹروں نے ملک میں اصلاحات کے اپنے وعدے پورے نہ کرنے کی سزا دی ہے۔
سورابیہ میں ایئرلانگا یونیورسٹی میں ماہرِ سیاسیات ڈینیئل سپیرنگا کا کہنا ہے کہ ’انڈونیشیائی عوام حکومت کی کارکردگی سے بہت مایوس ہیں‘۔
کیا بیم بانگ یودھویونو یا جنہیں عام طور پر ایس بی وائی کہا جاتا ہے انڈونیشیا کا مستقبل روشن بنا سکتے ہیں۔ آخر وہ اور ان کے نائب صدر کی کرسی کے امیدوار بھی تو میگاوتی کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔
![]() ’انتخابی نتائج کو تسلیم کریں‘ |
یودھویونو نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد جو پہلا کام کریں گے وہ کرپشن ختم کرنے کی مہم ہو گا۔ اس لیے ایسا ممکن ہے کہ کسی بڑے شخص کو عدالت میں لایا جائے۔ لیکن شاید اس میں سابق صدر سوہارتو کا نام نہ ہو کیونکہ وہ تو اتنے بیمار ہیں کہ شاید مقدمے کا سامنا ہی نہ کر سکیں۔
اس کے علاوہ تاجر برادری کے وہ افراد قابو میں آ سکتے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے انڈونیشیا کے کرنسی کے بحران میں پیسے خورد برد کیے تھے۔ اگر چند بڑے نام پکڑ لیے جائیں تو ظاہر ہو جائے گا کہ یودھویونو ہوا میں باتیں نہیں کر رہے اور وہ واقعی سنجیدہ ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انڈونیشیا کے عدالتی نظام کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بھی کافی کرپٹ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یودھویونو اس میں اصلاحات لانے کی کوشش کریں، نئے اٹارنی جنرل کو لے آئیں یا پولیس کا نیا سربراہ مقرر کر دیں۔
پہلے یودھویونو کی انتخابی مہم میں سکیورٹی کا زیادہ ذکر نہیں تھا لیکن جیسے ہی نو ستمبر کو آسٹریلیا کے سفارتخانے کے باہر بم حملہ ہوا سب کچھ بدل گیا۔
![]() یودھویونو کہتے ہیں کے اقتصادیات کی طرف خاص توجہ دی جائے گی |
جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروے لکھتی ہیں کہ یودھویونو کے لیے ایک بہت ہی نازک صورتحال ہے اور انہیں اسے بڑی ذمہ داری سے نبھانا ہے۔ انہیں انڈونیشیا کو ایک مضبوط قیادت دینی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس حد کو پار نہیں کرنا جہاں ایک جمہوریت قیادت آمرانہ رویہ اختیار کر لیتی ہے۔ انڈونیشیا کے عوام نے اس کے خلاف بڑی جدوجہد کی ہے۔