http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 10 September, 2004, 14:38 GMT 19:38 PST

نیپالی کمپنیوں کو پھر دھمکی

ماؤ نواز باغیوں کی تازہ ترین دھمکیوں کے نتیجے میں نیپال کی مزید 35
کمپنیاں بند کر دی گئی ہیں۔

ماؤ نواز باغیوں کی پچھلے مہینے سے دی جانے والی دھمکیوں کے نتیجے میں نیپال میں اب تک کل 46 کمپنیاں بند کی جاچکی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں کا یہ فیصلہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اسی دوران غیر ملکی سفارت خانوں نے ماؤ نواز باغیوں کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسطرح کرنے سے سرمایہ کار نیپال سے نکل جائیں گے اور نیپال کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔

جبکہ بند کی گئی 35 کمپنیوں کے مالکان کا یہ کہنا ہے کہ انکے پاس سوائے اپنی کمپنیاں بند کرنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔

نیپال- برطانیہ چیمبر آف کامرس کے صدر راجیندر کھیتان نے بتایا ہے کہ صنعت کاروں کو یہ ڈر تھا کہ اگر وہ ماؤ نواز باغیوں کی دھمکیوں کو نظر انداز کردیں تو وہ دھماکے کریں گے۔

چندروز قبل ماؤ نواز باغیوں نے کھٹمنڈو کی ایک ہوٹل سمیت دوسری کمپنیوں پر سچ مچ دھماکے کئے تھے۔

نیپال کے باغیوں کے نشانے پر آئی کمپنیوں میں شاہی گھرانے سمیت
امریکی اور ہندوستانی سرمایہ کاروں کی بھی رقم لگی ہوئی ہے۔

فیڈریشن آف نیپالیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بنود بہادر شریشٹہ کے مطابق پچھلے بند کی گئی کمپنیوں کی وجہ سے ہر روز دو لاکھ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔

لیکن ماؤ نواز باغی کہتے ہیں کہ مزدوروں کوکمپنیوں کے مالک پریشان کرتے ہیں ۔