Tuesday, 07 September, 2004, 17:27 GMT 22:27 PST
روس کی ریاست اوسیٹیا کے علاقے بیسلان میں سکول کے محاصرے کے دوران حکومت اور محاصرہ کرنے والوں کے درمیان رابطے کا کام کرنے والے ایک شخص نے کہا ہے کہ سکول کے ارد گرد خون کی ہولی اس وقت کھیلی گئی جب فوجیوں کے درمیان موجود مسلح افراد نے فائرنگ شروع کی۔
رسلان آشیو نے جو یرغمال بنانے والوں اور حکومت کے درمیان مصالحت کی کوشش کر رہے تھے ایک روسی اخبار کو بتایا کہ ساری گڑ بڑ اس وقت شروع ہوئی جب ایک دھماکے کے بعد بچے سکو ل سے باہر بھاگنا شروع ہوئے اور مسلح افراد نے سکول پر فائرنگ کردی۔
رسلان نے بتایا کہ روسی فوج کے کمانڈوز عجیب سی صورتِ حال کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ گولیاں چلانی انہوں نے شروع نہیں کی تھیں لیکن افراتفری کے عالم میں انہیں کارروائی کرنا پڑی جس سے خود فوجیوں کو بھاری نقصان ہوا۔
رسلان کے مطابق گولیاں چلانے والی ’تیسری قوت‘ تھی جس نے احمقانہ حرکت کی جس کے بعد گولیاں چلنے کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس تیسری قوت میں شامل افراد کے بارے میں رسلان کا کہنا تھا کہ یہ مقامی لوگ تھے جو مسلح تھے اور کئی یرغمال بچوں کے والد تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ ان فوجیوں میں گھس گئے تھے جو عمارت کے ارد گرد جمع تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یرغمال بنانے والے اس بات پر تیار ہوگئے تھے کہ وہ امدادی کام کرنے والوں کو عمارت میں موجود اکیس لاشیں باہر لے جانے کی اجازت دے دیں گے۔ جونہی یہ لوگ عمارت کے اندر داخل ہوئے ایک دھماکہ ہوگیا جو بظاہر غلطی سے ہوا۔
عمارت سے باہر نکلنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ دھماکہ اس لیے ہوا کہ ایک شخص کا پاؤں کسی تار سے الجھ گیا تھا۔
’جب گولیاں چلنا شروع ہوئیں، تو امدادی کارروائی کے لیے قائم ہیڈ کوارٹر نے حملہ آوروں کو بتانے کی بہت کوشش کی کہ یہ گولیاں فوجی نہیں چلا رہے بلکہ کوئی اور ہے۔ ‘
رسلان نے بتایا: ’ گولیاں نہ فوجی چلا رہے تھے اور نہ یرغمال بنانے والے اور ہم لوگ ایک دوسرے سے چیخ چیخ کر پوچھ رہے تھے کہ آخر گولیاں کون چلا رہا ہے۔ ‘
’گولیاں چلنے کے بعد سکول کی عمارت میں موجود افراد نے کہا ٹھیک ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بم بھی چلا دیں۔ وہ سمجھے کہ فوجی عمارت کے اندر داخل ہو رہے ہیں اور قریب قریب اسی وقت فوج کو کارروائی کا حکم دیا گیا۔‘