http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 07 September, 2004, 13:02 GMT 18:02 PST

غزہ میں جنازوں پر انتقام کی قسمیں

ہزاروں فلسطینیوں نےغزہ کی سڑکوں پر شدت پسند تنظیم حماس کے ان چودہ ارکان کےجنازے کے جلوس میں شرکت کی ہے جنہیں اسرائیل نے ایک فضائی کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ تمام کے تمام مرنے والے حماس کے فوجی دھڑے سے تعلق رکھتے تھے اور جس وقت ان کے خلاف کارروائی کی گئی اس وقت تربیتی مشق کے لیے جمع ہوئے تھے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چار سال پہلے فلسطینی انتفادہ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کی طرف سے حماس کے خلاف یہ سب سے سخت کارروائی تھی۔

فضائی کارروائی کے محض چند گھنٹوں بعد حماس کے شدت پسندوں نے غزہ سے ملحق اسرائیلی علاقے سدیروٹ میں مارٹرز اور راکٹوں سے حملہ کیا۔

دریں اثنا حماس لیڈروں کے جنازے میں شامل لوگوں نے چودہ افراد کے قتل کا بدلہ لینے کی قسم کھائی ہے۔

منگل کو حماس رہنماؤں کی تدفین کے موقع پر غزہ میں سکول بند رہے اور لوگوں نے احتراماً دکانیں بند رکھیں۔

مرنے والوں کے جسموں پر جھنڈوں والے کفن تھے جن پر قرآنی آیات درج تھیں۔

اس سے پہلے شدت پسند گروپ نےگزشتہ ہفتے بیرشیبا نامی شہر میں خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان حملوں میں سولہ افراد مارے گئے تھے۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ مرنے والوں کا انتقام لے گا۔

منگل کی صبح اسرائیلی میزائلوں نے اس سپورٹس گراؤنڈ کو نشانہ بنایا جس کا نام حماس کے روحانی رہنما شیخ یاسین کے مناسبت سے رکھا گیا تھا۔