Tuesday, 07 September, 2004, 05:06 GMT 10:06 PST
روس کی ریاست شمالی اوسیٹیا میں سکول کے محاصرے کے دوران تین سو پینتیس سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کے دوروزہ کا دوسرا دن ہے اور ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی تدفین جاری ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بسلان میں ہر طرف سوگ کا عالم تھا اور تقریباً ہر گلی سے ماتم اور گریہ کا آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔
تفین سے قبل جنازے کھلے میدان میں رکھ دیے گئے تھے تاکہ سوگوار مرنے والوں کے چہرے آخری بار دیکھ لیں۔
ان کا کہنا ہے ایک سو گھروں سے ایک سو بیس جنازے اٹھائے گئے اور منگل کو مزید میتیں دفنائی جائیں گی۔
تاہم اب غم و غصے میں کمی بھی آ رہی ہے اور یہ سوالات بھی اٹھایے جا رہے کہ سب کچھ کیسے ہوا؟
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ محاصرہ ختم کرنے کے لیے فوجی آپریشن کے دوران فائرنگ کس طرف سے شروع ہوئی تھی۔
پہلے روسی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ اغوائیوں میں کئی عربی باشندے بھی شامل تھے لیکن اس سلسلے میں انہوں نے ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔
کچھ لوگ انتقام کی باتیں بھی کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اس کارروائی میں ان کی ہمسایہ ریاست انگوسیتیہ کے لوگ بھی شامل تھے۔
اب تک کسی نے اس بات کا کوئی ثبوت تو پیش نہیں کیا لیکن دونوں ریاستیوں کے درمیانن پرانی دشمنی پھر سے بھڑک اٹھی ہے۔