Sunday, 05 September, 2004, 16:54 GMT 21:54 PST
عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک فوجی آپریشن کے دوران لگ بھگ پانچ سو لوگوں کو مزاحمت کار گروہوں سے تعلق رکھنے کے شبہے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ بغداد کے جنوب میں لطیفیہ شہر میں اس کارروائی کے دوران گرفتار ہونیوالوں میں کوئی بھی غیرملکی نہیں ہے۔
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ووڈ کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ عراق میں مزاحمت کار عراقی ہی ہیں۔ ماضی میں مبصرین یہ کہتے رہے ہیں کہ مزاحمت کاروں میں بڑی تعداد غیرملکیوں کی ہے۔
اس کارروائی کے دوران ٹینک شکن راکٹ، مورٹار اور ڈائنیمائیٹ برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں بارہ عراقی پولیس کے اہلکار مارے گئے۔ لطیفیہ وہ شہر ہے جہاں سے حال ہی میں دو فرانسیسی صحافیوں کو اغوا کیا گیا تھا۔
دریں اثناء موصل شہر کے مغرب میں طلافار کے مقام پر امریکی فوج کے ذریعے شدت پسندوں کے خلاف شروع کی جانیوالی فوجی کارروائی آج بھی جارہی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس شہر میں ملکِ شام سے آنیوالے شدت پسند پناہ لیتے ہیں۔
پولیس کے اہلکار غیث محمد العبیدی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مزاحمت کاروں کا ابھی بھی طلافار شہر پر کنٹرول برقرار ہے۔
اتوار کے روز بغداد میں دو دھماکے ہوئے۔ امریکی فوج کے مطابق پہلے دھماکے کے نتیجے میں کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن دوسرے دھماکے میں ایک امریکی فوجی اور دو عراقی شہری زخمی ہوگئے۔ دوسرا دھماکہ امریکی فوجیوں کے ایک قافلے پر کیا گیا تھا۔
سنیچر کے روز کرک میں ہونیوالے ایک خودکش بم دھماکے میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔