Friday, 03 September, 2004, 02:17 GMT 07:17 PST
ایران کا مسئلہ غیر متوقع طور پر امریکی صدارتی انتخابات کا موضوع بن گیا ہے
بش انتظامیہ چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مبینہ طور پر دھوکہ دینے کے لیے سزا دے ۔ جبکہ بش کے ڈیموکریٹ انتخابی حریف جان کیری چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کوئی ڈیل کی جائے۔
امریکی صدارتی انتخابات میں صرف دو ماہ باقی ہیں اور دونوں ہی امیدوار عالمی قیادت کو اہم موضوع بنا رہے ہیں۔
نیو یارک میں ریپبلیکن پارٹی کے کنوینشن کا موضوع یہ ہےکہ امریکی جارج بش کے ساتھ محفوظ ہیں ۔
نائب صدر کے عہدے کے لیے ڈیمو کریٹ امیدوار جان ایڈورڈ نے پیر کے روز اپنی تقریر میں صدر بش پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر بش نے عراق کے مسئلے کو ٹھیک طرح حل نہیں کیا اور افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا۔
واشنگٹن پوسٹ کو ایک انٹرویو میں جان ایڈورڈ نے ایران کے تئیں ایک نئے روئیے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیری انتظامیہ بھی بش انتظامیہ کی طرح جوہری اسحلہ سے لیس ایران کے خلاف ہوگی لیکن ایران سے نپٹنے کا ان کا طریقہ الگ ہوگا ۔
انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ کوئی ڈیل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پاور پلانٹ رکھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ جوہری ایندھن کو ترک کر دے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ ایران سے درپیش خطرے سے بھی نپٹ سکے گا اور اپنے یوروپی اتحادیوں کے ساتھ بھی رہ سکے گا۔
اس بحث پر کے ایران کو تنہا چھوڑا جائے یا پھر اس کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں کیری کیمپ اب اس سلسلے میں بات چیت کے حق میں نظر آ رہا ہے۔