Monday, 30 August, 2004, 10:31 GMT 15:31 PST
بنگلہ دیشی حزب اختلاف کی اپیل پر ایک اور ہڑتال کی وجہ سے پیر کو دکانیں، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔
یہ ہڑتال نو روز قبل حزب اختلاف کے احتجاجی جلوس میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے خلاف اختجاج کے لیے کی گئی۔
ان دھماکوں کے خلاف عوامی لیگ نے فوری طور پر دو روزہ ہڑتال کی اور بم دھماکوں کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج کی تقرری کے حکومتی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئےعوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبدل جلیل نے کہا کہ اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات تبھی ممکن ہیں جب کوئی قابل قبول عالمی تنظیم یہ ذمہ داری لے۔
حزب اختلاف کی جماعت عوامی لیگ اس دھماکے کی ذمہ دار حکومت کا قرار دیتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کا مقصد ان کی رہنما شیخ حسینہ واجد کو قتل کرنا تھا۔
![]() احتجاج کے دوران پولیس کی یہ کارروائی معمول کا حصہ ہے |
دو ہفتے قبل دارالحکومت ڈھاکہ میں عوامی لیگ کے ایک جلسہ میں ہونے والے دھماکوں میں اٹھارہ افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہوگئے تھے۔دھماکوں کے وقت شیخ حسینہ واجد جلسہ سے خطاب کر رہی تھیں اور وہ بھی معمولی طور پر زخمی ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہڑتال کی وجہ سے لوگوں سے بھری رہنے والی ڈھاکہ کی سڑکیں ویران پڑی ہیں۔
عوامی لیگ کے جلسے میں اس وقت کم از کم بیس ہزار افراد شریک بتائے جاتے ہیں ب سات یا آٹھ دھماکے ہوئے تھے۔
![]() نجی اور سرکاری املاک کو آگ لگانا اور نقصان پہنچانا بھی احتجاج کا حصہ ہے |
حزب اختلاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک وزیراعظم خالدہ ضیا مستعفی نہیں ہو جاتیں۔