http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 28 August, 2004, 10:46 GMT 15:46 PST

ابو حمزہ سے تفتیش کیلیے مزید وقت

عدالت نے برطانوی پولیس کو مسلمان مبلغ ابو حمزہ المصری سے دہشت گردی کے ارتکاب کے مبینہ الزامات کی مزید تفتیش کا وقت دے دیا ہے۔

اس اجازت کے بعد پولیس انہیں دو ستمبر تک اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔ اانسدادِ دہشت گردی کے ایکٹ دوہزار کے تحت پولیس کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو چودہ دن تک یہ تعین کرنے کے لیے حراست میں رکھ سکتی کے اس پر لگائے جانے والے الزامات کس حد تک قابلِ دست اندازی پولیس ہیں۔

ان سے نئی تفتیش انسدادِ دہشت گردی کے افسران کریں گے۔

ابو حمزہ پر ان الزامات کے سماعت الگ جاری ہے جن کے نتیجے میں انہیں امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

سینتالیس سالہ ابو حمزہ کو ایک ماہ قبل جنوب مشرقی لندن میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں امریکہ کی طرف سے ان کی حوالگی کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ وارنٹ کا تعلق ’دہشت گردی‘ سے ہے۔
امریکہ کے اٹارنی جنرل جون ایشکرافٹ نے ان پر گیارہ الزامات عاید کیے تھے جن کی بنا پر ابو حمزہ کو امریکہ کے حوالے کیے جانے کی درخواست کی گئی ہے۔
ان الزامات کے مطابق انیس سو اننانوے میں لوگوں کو یمن میں یرغمال بنانے کے ایک واقعہ میں الزام عائد کیا گیا ہے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں تین برطانوی بھی تھے۔
امریکی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ابو حمزہ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے امریکی ریاست اوریگون میں دہشت گردی کے کیمپ بنا کر القاعدہ کو مدد فراہم کی۔

تاہم ان کی گرفتاری کے بعد برطانوی پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے یہ شک بھی ہے کہ ابو حمزہ برطانیہ میں بھی لوگوں کو دہشت گردی پر اکسا رہے تھے اور اس کی تیاری کر رہے تھے۔

امریکہ حوالگی کے الزامات کی سماعت کو انیس اکتوبر تک ملتوی ہو چکی ہے۔

امریکہ کی طرف سے جیمز لویس قیو سی نے ایف بی آئی کے کارکن مائکل بش کے حلفیہ بیان کے حوالے سے کہا کہ ابو حمزہ نے اپنے تمام حامیوں سے کہا تھا کہ جہاد کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔