Tuesday, 24 August, 2004, 21:57 GMT 02:57 PST
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفلڈ کی جانب سے تشکیل شدہ کمیشن نے کہا ہے کہ ابو غریب جیل میں لاقانونیت کا عالم تھا۔
رپورٹ کے مطابق جیل میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کی کوئی سرکاری پالیسی نہیں تھی لیکن یہ بد سلوکی جیل میں بد نظمی اور قیادت کی ناکامی کے نتیجے میں ہوئی۔
اس کمیشن کی قیادت سابق امریکی وزیر دفاع جیمز شلیسنگر کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری مقامی سطح پر کمانڈروں کی ہے جبکہ اس واقعہ کی اداراجاتی اور ذاتی ذمہ داری واشنگٹن میں اعلی حکام تک جاتی ہے ۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ صرف کچھ لوگوں کی جانب سے موجود قاعدوں اور ضوابط کی پاسداری کرنے میں ناکامی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ کچھ رہنماؤں کی جانب سے ڈسپلن کو نافذ کرنے میں ناکامی ہے ۔
اور اس کی اداراجاتی اور ذاتی ذمہ داری اوپر کی سطح تک جاتی ہے ۔
رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ مسٹر رمسفلڈ نے اس طرح کی بد سلوکی کی اجازت دی تھی یا کسی طرح سے اس کی حوصلہ افزائی کی ۔
لیکن ایسا اشارہ دیا گیا ہے کہ ان کی پالیسیوں نے فوج میں نچلی سطح پر کچھ کنفیوژن پیدا کر دیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں شیلسنگر جیمز نے کہا کہ رمزفیلڈ کا استعفی امریکہ کے دشمنوں کے لئے ایک تحفہ ہوگا۔اور اگر ایسا ہوا تو یہ بد قسمتی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ جیل غیر فوجیوں کے لئے تھی اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کے لئے مناسب تھی۔ اس کے علاوہ جو محافظ وہاں تعینات تھے وہ غیر تربیت یافتہ تھے اور ان کے کمانڈروں نے ان کی مناسب ڈھنگ سے نگرانی نہیں کی۔