Sunday, 22 August, 2004, 10:29 GMT 15:29 PST
بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی جماعت عوامی لیگ کے کارکنوں نے ہفتے کو ہونے والے دھماکوں کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کئے ہیں اور ایک ٹرین کو آگ لگا دی ہے۔
مظاہروں کے دوران چٹاگانگ میں ریل کو آگ لگائے جانے کے واقع کی تفصیلات ابھی موصول نہیں ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقع میں بیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ہفتے کو دارالحکومت ڈھاکہ میں عوامی لیگ کے ایک جلسہ میں ہونے والے دھماکوں میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
دھماکوں کے وقت شیخ حسینہ واجد جلسہ سے خطاب کر رہی تھیں اور وہ بھی معمولی طور پر زخمی ہوئی ہیں۔
ان دھماکوں کے بعد حزب اختلاف کی جماعت کے کارکنوں نے مظاہرے شروع کر دئے تھے۔ ان مظاہروں میں حزب اختلاف کے کارکنوں نے کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگانے کی کوشش کی اور پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
عوامی لیگ نے اس حملے کی مذمت کرنے کے لیے ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے سڑکیں خالی رہیں۔ عوامی لیگ نے دھماکوں کی جگہ پر مرنے والوں کے لیے اتوار کو دعائیہ اجتماع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عوامی لیگ کے اس جلسہ جس میں کم کم از بیس ہزار افراد شریک تھے سات یا آٹھ دھماکے ہوئے تھے۔ دھماکوں کے فوراً بعد حسینہ واجد کو ایک گاڑی میں لیے جایا گیا جس پر عوامی لیگ کے کارکنوں کے مطابق فائرنگ بھی کی گئی تھی۔
ایک عینی شاہد محمد عالمگیر کے مطابق دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں ہیں دھواں تھا اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی لیکن وہ خوف کے عالم میں وہیں بیٹھ گئے ۔