Saturday, 21 August, 2004, 16:09 GMT 21:09 PST
چلی کے ایک جج نے سابق آمر اگستو پنوشے کو ان کے خفیہ بینک اکاؤنٹس رکھنے پر پوچھ گچھ کی ہے۔
پنوشے کے وکلاء کی ٹیم کے ایک رکن نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ جج نے دس دن پہلے ان کے گھر پر ان سے پوچھ گچھ کی۔
اٹھاسی سالہ جنرل پنوشے اور ان کے خاندان نے ان کے دور حکومت میں قومی دولت چوری کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اس سال موسم گرما میں امریکی سینیٹ کی ایک رپورٹ میں پنوشے کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کے بارے میں تفصیلات دی گئی تھیں۔
سن دو ہزار ایک میں ایک عدالت نے پنوشے کو ان کی گرتی ہوئی صحت کے باعث ان پر انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق مقدمات نہ چلانے کا فیصلہ دیا تھا۔اس کے بعد سے یہ کسی جج کی ان سے پہلی پوچھ گچھ ہے۔
کچھ عرصہ پہلے ملک کی کورٹ آف اپیل نے پنوشے کے اس اثتثیٰ کو واپس لے لیا تھا اس لیے اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ اب انسانی حقوق کی پامالی کے مقدمات بھی چلائے جا سکیں گے۔
امریکی سینیٹ نے رپورٹ میں کہا تھا کہ انیس سو تہتر اور انیس سو نوے کے دوران واشنگٹن کے رگز بینک میں جنرل پنوشے اور ان کی اہلیہ کے نام اکاؤنٹ میں اسی لاکھ ڈالر موجود تھے۔ اس کے بعد چلی کی ایک عدالت نے ایک جج سرجیو منوز کو ان خفیہ بینک اکاؤنٹس کی تحقیق پر مامور کیا تھا۔ جج پہلے ہی پنوشے کی اہلیہ اور بچوں سے پوچھ گچھ کر چکے ہیں اور مختلف اداروں سے ریکارڈ وصول کر چکے ہیں۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا جج نے خود پنوشے سے پوچھ گچھ کی یا نہیں۔
پنوشے کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ سابق رہنما کا تمام پیسہ قانونی ذرائع سے کمایا ہوا ہے۔