Tuesday, 10 August, 2004, 12:51 GMT 17:51 PST
نو اکتوبر کو افغانستان میں پہلے جمہوری صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ دس اگست کو انتخابی حکام نے 23 میں سے اٹھارہ امیدواروں کو انتخابات لڑنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس مقابلے میں شامل کچھ اہم امیدواروں کے قلمی خاکے یہ ہیں۔
حامد کرزئی
![]() |
کرزئی قندھار سے تعلق رکھنے والےایک طاقت ور پشتون رہنما ہیں۔ عبوری صدر کی حیثیت سے انہوں نے افغانستان میں اور بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔
کرزئی پڑھے لکھے ہیں اور مغربی طور طریقوں سے واقف ہیں۔ کئی غیر ملکیوں کی رائے میں کرزئی افغانستان کی صدارت کرنے کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔
مگر افغانستان میں ان کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ پہلے راؤنڈ میں براہ راست مقابلہ جیت سکیں گے یا پھر بات دو ہفتے بعد ’رن آف‘ میں طے ہوگی۔
عبدالرشید دوستم
دوستم افغان سیاست میں بہت عرصے سے شامل رہے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی افغانستان کے ازبک ووٹر انہی کو ووٹ دینگے۔
جنرل دوستم افغان سیاست کے داؤ پیچ بخوبی سمجھتے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں وہ سوویت روس کے خلاف لڑے ، طالبان کی حمایت کی اور پھر طالبان مخالف شمالی اتحاد کے ساتھ ہاتھ ملایا۔
یونس قانونی
![]() |
مسٹر قانونی کی حمایت افغانستان کے طاقت ور وزیر دفاع محمد فہیم کر رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا تھا کہ مسٹر فہیم کوکرزئی کے نائب صدر کے لیے منتخب کیا جائےگا مگر ایسا نہیں ہوا۔
مسٹر قانونی کو پنجشیر علاقے کی تاجک آبادی کی حمایت حاصل ہے۔ مگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر ان کی مقبولیت انتخاب جیتنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
محمد محقق
خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں ہزارہ برادری کے ووٹوں کے علاوہ پاکستان اور ایران میں رہنےوالے ہزارہ پناہ گزین بھی انہیں اپنا ووٹ دینگے۔
ڈاکٹر مسعودہ جلال
کابل سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر جلال بچوں کی ڈاکٹر ہیں۔ وہ اس وقت لوگوں کی نظروں میں آئیں جب طالبان کی شکست کے بعد ہونے والے پہلے لویا جرگہ میں انہوں نے مسٹر کرزئی کو چیلینج کیا تھا۔
ڈاکٹر جلال امید کر رہی ہیں کہ انہیں افغانستان کی عورتوں کے ووٹ ملیں گے جو کہ آبادی کا دو تہائی ہیں۔
احمد شاہ احمدزئی
احمد شاہ نسلی طور پر پشتون ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ جنوب اور مشرق میں وہ کرزئی سے کچھ ووٹ لے جائیں گے۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وہ پشتون علاقوں میں امریکہ مخالف لہر کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
سید اسحاق گیلانی
انہوں نے کئی بار صدر کرزئی اور افغانستان میں امریکہ کے کردار پر تنقید کی ہے۔