Sunday, 08 August, 2004, 02:04 GMT 07:04 PST
اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل کوفی عنان نے عراقی شہر نجف اشرف میں ہونے والی لڑائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے عملے کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بحران کو حل کروانے میں مدد کرے۔
مسٹر کوفی عنان کے ایک ترجمان نے کہا ہے نجف میں امریکی فوج اور مقتدیٰ الصدر کے جنگجوں کے درمیا فائر بندی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ سیکریڑی جنرل کو خصوصاً عرا قیوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر سخت تشویش ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ کو عراقی وزیراعظم ایاد علاوی نے تعمیر نو اور تشدد پر قابو پانے کی غرض سے عام معافی کا اعلان کیا ہے
تاہم مقتدیٰ الصدر کے ایک ترجمان نے عام معافی کے اعلان کو ملکی سلامتی کے لیے ایک معمولی اور غیر اہم اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عراق میں ہونے والی مزاحمت جائز ہے اور اس کے لیے کسی معافی کی ضرورت نہیں۔
دریں اثنا ایران کے صدر محمد خاتمی نے نجف شہر اور روضئے علی پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس تمام مسلم امّہ بلخصوص شعیہ مسلمانوں پر حملے قرار دیا ہے۔
صدر خاتمی نے آذر بائجان کے سرکاری دورے سے واپسی پر نجف میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا ’ہم کسی بھی صورت اپنے مقدس مقامات پر حملے برداشت نہیں کریں گے، یہ حملے دراصل تما م مسلمانوں کے ایمان، اعتقاد اور ہمارے جذبات پر کیے جارہے ہیں‘۔