Thursday, 05 August, 2004, 14:18 GMT 19:18 PST
ٹی وی سے انتخابی مہم جدید سیاست کا ایسا ناگزیر حصہ بن چکی ہے کہ اب یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ٹی وی کے ابتدائی ایام میں اس تصور کو متعارف کرانے کے لیے کیا کیا کوششیں نہیں کی گئی ہوں گی۔
ایک وقت تھا کہ ٹیلی ویژن سے سیاسی تشہیر کو وقار کے منافی خیال کیا جاتا تھا۔
1952 میں جب آئزن ہاور نے انتخابی مہم کے لیے پہلی بار ٹیلیویژن کا استعمال کیا تو ان کے ڈیموکرٹک حریف ان پر خوب برسے۔
ایڈلائی سٹیوینسن کے یہ الفاظ آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں: ’میرا خیال ہے کہ ذہانت کے اس مذموم استعمال سے امریکی عوام کو دھچکہ لگے گا، یہ کوئی آئیوری صابن بمقالہ پام اولیو صابن کا معاملہ نہیں ہے‘۔
تاہم اب ٹی وی تشہیر انتخابات کے لیے مہم کا بنیادی حصہ بن چکی ہے اور امیدوار اپنی اپنی انتخابی مہم کے بجٹ کا پچاس سے پچھتر فی صد حصہ ٹی وی پر صرف کرتے ہیں اور اگرچہ تناسب کم و بیش یہی رہتا ہے لیکن رقوم ہر چار سال میں بڑھتی ہی جاتی ہیں۔
![]() امریکہ میں سرد جنگ کے زمانے کا ایک انتخابی اشتہار |
انٹر نیٹ کی آمد نے انتخابی جنگ کے لیے ایک نیا میدان کھول دیا ہے اور بہت سے ایسے اشتہار جو کبھی صرف ٹی وی کے لیے مخصوص تھے اب انٹرنیٹ کو منتقل ہو چکے ہیں۔
ورجینیا کے ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر جان ٹیڈسکو کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے امریکہ کے ان پینسٹھ سے ستر فیصد لوگوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے جو روزانہ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔
انتخابی تشہیر کا خاصا حصہ پہلے ہی انٹرنیٹ پر منتقل ہو چکا ہے اور موواون ڈاٹ او آر جی ( MoveOn.org) انٹر نیٹ کی تشہیر کو مقبول بنانے کے لیے ایسی زود اثر اور تیکھے اشتہار بنا رہے ہیں جنہیں منفی اشتہار بھی قرار دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’منفی اشتہارات کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں انتخابی مہم میں استعمال کیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ اشتہارات امریکی سیاست کے دیوانے پن کا بھی اظہار کرتے ہیں۔
جان ٹیڈسکو کا کہنا ہے کہ منفی اشتہارات کا یہ رحجان مزید بڑھے گا اور اس وقت تک بڑھتا رہے گا جب تک امریکی یہ محسوس نہیں کرتے کہ وہ اس طرح کی اشتہار بازی سے تنگ آ چکے ہیں۔