Wednesday, 04 August, 2004, 06:56 GMT 11:56 PST
جنوبی افریقہ کی حکومت نے میڈیا کی ان رپورٹوں کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کردیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان میں گرفتار ہونیوالے اس کے دو شہری جوہانسبرگ کے سیاحتی مقامات پر حملے کا منصوبہ بنارہے تھے۔
وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستانی اہلکاروں سے سفارتی طور پر بات چیت کررہی ہے تاکہ ان زیرحراست افراد تک رسائی حاصل کی جاسکے۔ ترجمان نے کہا کہ تب تک اس موضوع پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔
لاہور میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کے دوران جنوبی افریقہ کے جن دو شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کا نام ابوبکر اور زبیر اسماعیل بتایا گیا ہے۔
گزشتہ پچیس جولائی کو پاکستان کے شہر گجرات میں القاعدہ کے خلاف ایک کارروائی کے دوران احمد خلفان غلانی سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ مشرقی افریقہ کے ممالک تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر انیس سو اٹھانوے میں ہونے والے دھماکوں کیلئے امریکی حکومت کو مطلوب تھا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں نے اپنی تازہ کارروائی میں احمد خلفان غلانی کے علاوہ القاعدہ کے دو اور سرکردہ کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق یہ دونوں اشخاص افریقی نژاد ہیں جو کچھ عرصے سے پاکستان میں قیام پذیر تھے۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے القاعدہ کے اراکین سے خاصی اہمیت کی حامل معلومات ملی ہے جس بنا پر صوبہ پنجاب کے بعض شہروں میں کارروائی ہو رہی ہے۔