Tuesday, 03 August, 2004, 12:22 GMT 17:22 PST
برطانیہ میں مسلمانوں کو ایسی سافٹ ڈرنکس پینے کی اجازت دے دی گئی ہے جس میں شراب اور سور کے گوشت کی بہت تھوڑی مقدار موجود ہے۔
شریعہ کے مطابق ’لوکوزیڈ‘ اور ’رائبینا‘ نامی سافٹ ڈرنکس حرام قرار دی گئی تھیں۔
لوکوزیڈ میں 0.01 فیصد شراب پائی جاتی ہے۔ برطانیہ کے مسلم لاء کونسل (یعنی اسلامی قوانین کی کونسل) کا کہنا ہے کہ یہ مقدار بہت ہی کم ہے اور اس کی وجہ سے لوکوزیڈ کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رائبینا بنانے میں پہلے ’جیلیٹن‘ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ جیلیٹن لحم خنزیر سے بنتا ہے۔ مگر اب رائبینا نے اس کا استعمال بند کر دیا ہے۔
برطانیہ کا مسلم لاء کونسل اس نتیجہ پر گزشتہ سالوں میں اس بارے میں ہونے والے فیصلوں کا مطالعہ کرنے کے بعد پہنچا ہے۔
کونسل کے سربراہ ذکی بداوی نے بتایا کہ پہلے بھی کچھ خاص حالات میں حرام اشیاء کا استعمال جائز قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں رائبینا اور لوکوزیڈ پینے میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں میں شراب اور دیگر اشیاء کے استعمال سے مزے، رنگ یا بو پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔
یہ ڈرنکس بنانے والی کمپنی گلیکسو سمتھکلائن نے مسلم کونسل کے سامنے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا تھا کہ قدرتی عوامل کی وجہ سے پھلوں کے جوس اور بریڈ میں بھی اس مقدار میں شراب موجود ہو سکتی ہے۔
اس فیصلے سے کئی مسلمانوں کے لیے ایک مسئلے کا حل ہو گیا ہے۔ کچھ مسلمان شریعہ کے خلاف جانے کے ڈر کی وجہ سے کئی چیزوں کے استعمال سے کتراتے تھے۔
اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی سافٹ ڈرنکس ایسو سی ایشن نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایسو سی ایشن کے ترجمان نے بتایا کہ سافٹ ڈرنکس میں شراب نہیں ہوتی اور انہیں خوشی ہے کہ اس فیصلے نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔